data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار پر بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایونٹ میں شرکت یا عدم شرکت سے متعلق صورتحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور اس حوالے سے آج حتمی اعلان متوقع ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ  (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے مشاورت کے بعد پاکستان کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیں گے، اجلاس میں نہ صرف ورلڈ کپ میں مکمل شرکت یا مکمل بائیکاٹ پر غور کیا جائے گا بلکہ اس آپشن پر بھی سنجیدگی سے بحث کی جا رہی ہے کہ پاکستان ٹیم صرف بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دے، جبکہ ٹورنامنٹ کے دیگر میچز میں حصہ لے۔

رپورٹ کے مطابق خارجہ امور کی حساس نوعیت کے پیش نظر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بھی مشاورتی عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی سی بی اور حکومتی سطح پر مختلف امکانات پر مشاورت جاری ہے، تاہم بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان دیگر تجاویز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے، تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے، حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی، جیسے ہی کسی حتمی فیصلے پر اتفاق ہو گا، عوام کو آگاہ کردیا جائے گا۔

کھیلوں کے حلقوں میں یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے بھارت میں نہ کھیلنے کے فیصلے کی کھل کر حمایت کی تھی۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا تھا کہ بنگلادیش کا مؤقف اصولی بنیادوں پر قائم ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مبینہ دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کرتا، سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں، سب کو کرکٹ کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 4 جنوری کو بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرکٹ بورڈ پی سی بی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی