Express News:
2026-06-02@22:27:16 GMT

صدر ٹرمپ کے ایڈوانچر

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کو ’’شہنشاہ عالم پناہ‘‘ بننے کا جو خبط سوار ہے وہ کسی صورت ان کے ذہن سے نہیں نکلتا۔ غزہ میں ان کی مداخلت بے جا اور وینزویلا میں ان کی کامیاب مداخلت نے ان کی ہمت و جرأت کو مہمیز دی ہے اور اب وہ ایسے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کا حکم دنیا کے بڑے حصے پر چلے گا اور وہ بلا شرکت غیرے دنیا کے بڑے حصے اور ان کے اپنے خیال کے مطابق پوری دنیا کے حکمران اعلیٰ قرار پائیں گے۔ عالمی تاریخ کے وہ ایسے حکمران بننا چاہتے ہیں جو اس سے پہلے نہ صرف کوئی حکمران ہو سکا بلکہ کسی نے اتنی ’’ عظیم سلطنت‘‘ کا خواب بھی نہ دیکھا ہوگا۔

گرین لینڈ ان کی بندوق کی شست پر ہے ۔ ایران پر وہ نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ پچھلے دنوں تو انھوں نے ایران کو واضح دھمکی دی تھی کہ امریکا ایران پر حملہ کرنے والا ہے اور جنگی تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں مگر ایران کی اس دھمکی کے بعد اگر ایران پر امریکا نے حملہ کیا تو ایران اپنے ارد گرد تمام امریکی اڈوں کو تباہ کر دے گا، اس دھمکی نے کام دکھایا اور امریکی حکومت کا بیان آیا کہ ایران پر حملہ فی الوقت ملتوی کیا جا رہا ہے مگر تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ چین میں متعین امریکی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو گیا ہے اور امریکا کی طرف سے ایک بار پھر یہ بات دہرائی گئی ہے۔

 ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں۔ گویا ایران کے سر پر امریکی حملے کا بھوت بدستور سایہ فگن ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ امریکا جن ممالک پر طبع آزمائی کر رہا ہے وہ ’’چہ پدی چہ پدی کا شوربہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں امریکا نے ابھی تک کسی ہم پلہ سے زور آزمائی کی جرأت نہیں کی ہے اور اس کی ہم پلہ طاقتیں بھی اسے پالے میں گھسیٹ رہی ہیں۔ کبڈی کے کھیل میں دشمن کو چت کرنے کے لیے اسے اپنے علاقے میں داخل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، اسے پالا دینا کہا جاتا ہے جب کھلاڑی دشمن کے علاقے میں کافی اندر داخل ہو جاتا ہے تو پھر ہر طرف سے اسے گھیر کر قابو کر لیا جاتا ہے۔ کیا خبر امریکا کی ہم پلہ طاقتوں کی اسٹریٹجی یہی ہو۔ اس کا اندازہ ابھی کرنا قبل از وقت ہے۔

ایران کا تو اللہ حافظ ہے لیکن ایران پر امریکی قبضے کی صورت میں امریکا کا جنگی جن بوتل سے باہر آ جائے گا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک ہی نہیں پاکستان افغانستان اور ہو سکتا ہے ہندوستان بھی اس کی زد میں آ جائے۔

فی الوقت تو گرین لینڈ کی شامت آئی ہوئی ہے، امریکا نے گرین لینڈ پر اپنی حاکمیت کا جو دعویٰ کیا ہے، اس نے یورپی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فرانس کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچ گئے ہیں۔ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان جو مفاہمتی بات چیت جاری تھی وہ ناکام ہو گئی ہے اور فرانس اور جرمنی نے اپنی مزید افواج گرین لینڈ روانہ کر دی ہیں۔ روس نے ایک مفاہمانہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی صورت حال اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اس لیے متعلقہ حکومتوں کو مفاہمانہ انداز اختیار کرکے امن کے راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔ مگر روس کے اس مفاہمانہ انداز کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی فوجی حلقوں نے خیال ظاہر کیا یورپی ممالک کی فوج کے گرین لینڈ آنے سے امریکی موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ بدستور اپنے موقف پر اڑا رہے گا۔

امریکی آمریت کا دوسرا شکار وینزویلا میں صورت حال بڑی دلچسپ ہو گئی ہے۔ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماچادو کو امن کا نوبل انعام ملا تھا۔ اب ماچادو نے اپنا یہ انعام صدر ٹرمپ کی نذر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس انعام کو قبول کرنے سے معذرت کی تھی مگر ماچادو کے ’’ بے حد‘‘ اصرار پر بالآخر انھوں نے اسے قبول کر لیا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی اس طور پر ہوئی کہ وہاں کے قانونی صدر کو رات کے اندھیرے میں اس کی خواب گاہ سے اغوا کیا گیا اور ان کی بیگم کو بے گناہی کے گناہ میں ساتھ ہی گرفتار کرکے امریکی بحریہ کے جہاز پر منتقل کر دیا گیا جہاں سے انھیں نیویارک لے جایا گیا جہاں اب ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔

ان کی اس گرفتاری کے باعث صدر کی خالی نشست کو پُر کرنے کا سوال پیدا ہوا تو قانون کے مطابق اپوزیشن رہنما ماچادو کا نام زیر بحث آیا مگر مقتدر حلقوں کا خیال تھا کہ ماچادو صدر کے عہدے کو مناسب طور پر نبھانے کے قابل نہیں ہو سکتیں اور یہ رائے وینزویلا اور امریکی حلقوں میں گردش کرنے لگی۔ عام خیال یہ ہے کہ ماچادو نے جو فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا نوبل انعام صدر ٹرمپ کے نام کیا ہے تو کیا ان کی اس محبت کا جواب صدر کی طرف سے ان کو نوازنے کے طور پر انھی کو وینزویلا کے صدر کے عہدے پر فائز کرانے کا باعث نہ بنے گا۔ادھر وینزویلا میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ نوبل انعام جیسے اعلیٰ و ارفع انعام کی اس طرح منتقلی انعام کی بے توقیری کا سبب نہ بن جائے اور آیا اس طرح کی منتقلی ممکن بھی ہے یا نہیں۔

لیکن دنیا بھر کے روشن دماغ لوگ اس صورت حال کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اگرچہ واضح الفاظ میں اس کا اظہار نہیں کیا جا رہا لیکن اسے ماچادو کی طرف سے صدر ٹرمپ کے لیے رشوت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ ماچادو صدر کے اہل قرار دے دی جائیں اور وینزویلا کی باگ ڈور فی الوقت ان کے ہاتھ میں دے دی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ ایران پر صورت حال جاتا ہے کیا ہے ہے اور گئی ہے رہا ہے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان