ایران کیخلاف امریکی صیہونی حملہ اور ایرانی یونیورسٹیوں کا کردار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایران کے حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ دشمن اب صرف ٹینکوں اور مشین گنوں سے نہیں لڑتا بلکہ اس نے میدان جنگ کو معاشرے کے افراد کے اذہان اور ادراک میں منتقل کر دیا ہے۔ سکیورٹی لٹریچر میں اسے آج کل "ہائبرڈ وارفیئر" کہا جاتا ہے۔ ایک جنگ جو بیک وقت میڈیا، رائے عامہ، سفارت کاری اور سائبر اسپیس میں لڑی جاتی ہے۔ ایران کے موجودہ بحران میں علمی و دانشگاهی برادری، اپنی مثالی ذہانت کے ساتھ، اس خطرے کی نوعیت کو ظاہر کرنیوالا پہلا ادارہ تھی۔ پولیٹیکل سائنس اور کمیونیکیشن کے پروفیسرز نے اپنے تجزیوں سے ثابت کیا کہ سڑکوں پر ہونیوالے حالیہ فسادات مغرب میں گمنام کمانڈ رومز میں ڈیزائن کیے گئے پیچیدہ منصوبے کی صرف ایک سطحی علامت تھے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
مجھے ایران کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے کا اگرچہ محدود تجربہ رہا ہے، لیکن یونیورسٹی طلباء اور اساتذہ سے رابطہ اتنا مسلسل ہے کہ اب بھی اپنے آپ کو ان کا حصہ ہی سمجھتا ہوں۔ ایران کے موجودہ بحران کے بارے میں یونیورسٹی طلباء اور اساتذہ کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایرانی سوسائٹی میں یونیورسٹی پروفیسر کو بہت زیادہ عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ وزراء اور اراکین اسمبلی، وزیر یا رکن پارلیمنٹ کہلوانے سے زیادہ استاد دانشگاہ کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کسی بھی جنگ میں پہلا ہتھیار دشمن شناسی ہوتا ہے۔ جو معاشرہ اپنے دشمن کا صحیح تجزیہ کرتا ہے، وہ آدھی فتح جنگ سے پہلے حاصل کرچکا ہوتا ہے۔
ایران کے حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ دشمن اب صرف ٹینکوں اور مشین گنوں سے نہیں لڑتا بلکہ اس نے میدان جنگ کو معاشرے کے افراد کے اذہان اور ادراک میں منتقل کر دیا ہے۔ سکیورٹی لٹریچر میں اسے آج کل "ہائبرڈ وارفیئر" کہا جاتا ہے۔ ایک جنگ جو بیک وقت میڈیا، رائے عامہ، سفارت کاری اور سائبر اسپیس میں لڑی جاتی ہے۔ ایران کے موجودہ بحران میں علمی و دانشگاهی برادری، اپنی مثالی ذہانت کے ساتھ، اس خطرے کی نوعیت کو ظاہر کرنے والا پہلا ادارہ تھی۔ پولیٹیکل سائنس اور کمیونیکیشن کے پروفیسرز نے اپنے تجزیوں سے ثابت کیا کہ سڑکوں پر ہونے والے حالیہ فسادات مغرب میں گمنام کمانڈ رومز میں ڈیزائن کیے گئے پیچیدہ منصوبے کی صرف ایک سطحی علامت تھے۔
علاقائی جنگوں میں استعمال ہونے والے ماڈلز کے ساتھ ان آپریشنز کے ڈھانچے کی مماثلت، بشمول 12 روزہ جنگ، واضح طور پر اشارہ کرتی ہے کہ دشمن وہی پرانے کھلاڑی تھے، لیکن اس دفعہ نئے ماسک کے ساتھ وارد ہوئے تھے، ان کھلاڑیوں نے اس بار میزائل کے بجائے "پرسیپشن" اور "تاثر" کے ہتھیاروں سے فائر کیا۔ ایک ہائبرڈ جنگ، میڈیا، نفسیاتی، سفارتی، اقتصادی اور معلوماتی آلات کا مجموعہ ہوتی ہے، جو سماجی اعتماد کو کمزور کرنے اور قوموں کی ذہنی تباہی کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے۔ اس منظرنامے میں، اصل میدان جنگ ملک کی سرزمین نہیں، بلکہ سائبر اسپیس اور معاشرے کے ذہن ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ثابت کیا ایران کے کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔