انڈسٹری کو ترجیح بنیادوں پر گیس فراہمی کیلیے پر عزم ہیں ، چیئرمین SSGC آصف انعام
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کے چیئرمین آصف انعام نے کہا ہے کہ بورڈ میں نئے ممبران شامل ہوئے ہیں جن میں اکثریت اسٹیک ہولڈرز ہیں جو ایس ایس جی سی کے مسائل اور ان کے حل سے باخوبی واقف ہیں۔ ایس ایس جی سی گھریلو صارفین کے ساتھ انڈسٹری کوبھی ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ علی، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین احتشام الدین، سی ای او کائیٹ زاہد سعید، سابق چیئرمین و صدور جنید نقی، فرحان الرحمان، مسعود نقی، فرخ مظہر، ریحان جاوید، قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی امین راجپوت، سید فہد، سید سعید زضوی سمیت دیگر ممبران اور صنعتکار موجود تھے۔ آصف انعام نے مزید کہا کہ موسم سرما میں گیس کی قلت کے باعث مجبوراً انڈسٹری کو گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کی۔ توقع تھی کہ متبادل ذرائع سے گیس مل جائے تاہم گیس فیلڈ سے پریشر میں کمی اور عدم دستیابی کے باعث صنعتوں کے لیے گیس بندش کا اعلان کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ آئندہ سال موسم سرما کے لیے انڈسٹری کے ساتھ مشاورت سے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان ترتیب دیں گے تاکہ صنعتوں کا پہیہ بلاتعطل چلتا رہے۔ قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی امین راجپوت نے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں منفی 10 ڈگری درجہ حرارت کے باعث سخت سردی ہے جس سے وہاں معمولات زندگی کا مکمل انحصار گیس پر ہوتا ہے، باوجود نقصانات انسانی بنیادوں پر بلوچستان میں گیس فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ امین راجپوت نے کہا کہ آر ایل این جی کی درآمد میں بیشتر حصہ سوئی نادرن کا ہے، اور سوئی سدرن صرف انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق ہی گیس ڈاؤن لوڈ کرتی تھی تاہم موسم سرما میں وہ بھی گیس دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹیو پاور پلانٹس کے سسٹم سے نکل جانے سے 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا استعمال کم ہوا ہے جس سے سالانہ 100 ارب روپے گیس خریدنے والا کنزیومر نکل گیاہے جو ادارے کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ قائم مقام ایم ڈی نے کہا کہ ملک میں گیس سپلائی سالانہ 8 فیصد کے تناسب سے کم ہورہی ہے جبکہ نئی دریافت ہونے والی گیس کو سسٹم میں شامل کرنے میں 2 سال لگتے ہیں۔ اس وقت فرٹیلائز کا شعبہ بھی جسے 60 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جاتی تھی اسے بھی صرف 2 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ماہ جنوری میں سخت سردی کے باعث گیس کی طلب میں اضافہ ہے اور امکان ہے کہ فروری میں موسم بہتر ہوگا جس سے ڈیمانڈ اور سپلائی میں بہتری آئے گی۔ امین راجپوت نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ملک میں 2031 کے بعد آر ایل این جی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت آر ایل این جی کے کارگو ڈائیورٹ کر رہی ہے۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ آصف انعام کا تعلق بزنس کمیونٹی سے ہے اور وہ بزنس کمیونٹی کے مسائل سے باخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کو آصف انعام سے مسائل کے حل میں کلیدی کردار اداکرنے کی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت اور پریشر میں کمی سے صنعتیں بند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی سی امین راجپوت راجپوت نے کے باعث گیس کی کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔