سانحہ گل پلازہ‘ ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی ڈی این اے شناخت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے دہلی کالونی کے رہائشی ایک ہی خاندان کے افراد کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ ڈی این اے (D.N.A) رپورٹ کے ذریعے تصدیق ہونے کے بعد 4 افراد کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں جبکہ خاندان کے مزید 2 افراد کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق، دہلی کالونی کا ایک بدنصیب خاندان، جس کے 6 افراد خریداری کے لیے گل پلازہ آئے تھے، اس ہولناک واقعے کی نذر ہو گیا۔ طویل انتظار اور سائنسی جانچ کے بعد 4 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے، جن میں 32سالہ محمد سعد ولد عرفان،35سالہ مصباح پروین دختر عرفان،30سالہ نمرہ دختر عرفان اور 14سالہ مریم دختر نور احمد شامل ہیں۔ ایدھی ذرائع کے مطابق 3 خواتین اور 1 نوجوان سمیت ان 4 افراد کی میتیں پیر کودوپہر ساڑھے 12 بجے ایدھی ہوم سہراب گوٹھ سرد خانے سے ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے سوگوار خاندان کے حوالے کر دی گئیں ۔ میتوں کی حوالگی کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ ئے ۔ متاثرہ خاندان گزشتہ کئی روز سے اپنے پیاروں کی شناخت کے منتظر تھے۔اسی خاندان کے مزید 2 افراد جن میںایک خاتون کوثر پروین اور یک مرد اشرف علی شامل ہیں، ان کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بقیہ2 میتوں کی شناخت کے لیے مزید ٹیسٹ اور قانونی کارروائی جاری ہے تاکہ انہیں بھی جلد از جلد تدفین کے لیے اپنوں کے سپرد کیا جا ئے گا ۔ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام انتظامات مکمل کر کے میتوں کو پروٹوکول کے ساتھ ان کے گھر روانہ کیا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے کہ پورا خاندان اس حادثے میں ختم ہو گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خاندان کے افراد کی کی شناخت
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔