گل پلازہ میں آ پر یشن مکمل ،سند حکومت کا 2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260127-01-16
کراچی( اسٹا ف رپورٹر ) گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد ریسکیو، پولیس اور تفتیشی اداروں کی کارروائیاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق تکنیکی ٹیم آج عمارت کے اندرآخری بار سرچ آپریشن انجام دے گی، جس کے بعد گل پلازہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ٹیم کو ملبے تلے دبے مزید 2 افراد کی انسانی باقیات بھی ملی ہیںجس کے بعد اب تک 74 لاشیں ملبے سے برآمد ہو چکی ہیں۔7 لاشوں کو فیشل ریکگنیشن اور شناختی کارڈ کے ذریعے شناخت کیا گیا ہے، پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ شناخت کے لیے تکنیکی پروسیس جاری ہے۔جامعہ کراچی کی ڈی این اے لیب اب تک 16 افراد کی ڈی این اے رپورٹ جاری کرچکی ہے تاہم مجموعی طور پر سانحے میں جاں بحق 23 افراد کو شناخت کیا جاچکا ہے۔آپریشن ٹیم کو ملبے تلے دبے مزید 2 افراد کی انسانی باقیات بھی ملی ہیں جنہیں ڈی این اے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے میچنگ کا عمل جاری ہے۔تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 82 لاپتا افراد تھے، ابھی بھی کسی کاکوئی پیارا لاپتاہے تو رابطہ کرسکتا ہے، ، تاہم ان میں سے 13 لاپتا افراد کے ورثا نے تاحال ڈی این اے سیمپلز فراہم نہیں کیے۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ بارہا اپیلوں کے باوجود اگر مقررہ وقت کے اندر لواحقین نے رابطہ نہ کیا تو ایسے افراد کو لاپتا افراد کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔پولیس کے مطابق 30 لاشوں کا مکمل ڈیٹا حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سرکاری پیکج اور مالی ادائیگی کا عمل شروع کیا جا سکے۔تاہم، ڈی این اے سیمپلز میں تاخیر کے باعث متعدد خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی شناخت کے انتظار میں اذیت ناک کرب سے گزر رہے ہیں۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد بیانات لینے کاسلسلہ جاری ہے۔گل پلازہ میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے معائنہ مکمل کر لیا ہے، پلازہ کی بیسمنٹ میں موجود دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے وڈیوز اور دیگر شواہد سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا ہے گیا ہے ، جس کے بعد عمارت کو سیل کرنے کے کا عمل کے بعد مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ پولیس کے مطابق عمارت کے اطراف لوہے کی شٹرنگ لگائی جا رہی ہے تاکہ کسی غیر مجاز شخص کا داخلہ روکا جا سکے اور شواہد محفوظ رہیں۔سانحے کے اس تاریک پہلو پر بات کرتے ہوئے ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے واضح الفاظ میں کہا کہ غفلت اور لاپروائی کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ لگنے کے باوجود عمارت کے دروازے کیوں نہیں کھولے گئے، اور آیا یہ کوتاہی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔تحقیقاتی افسران کے مطابق ابتدائی شواہد اس خدشے کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایمرجنسی صورتحال میں راستے بند رکھنا کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔ اس حوالے سے عمارت کے مالکان، انتظامیہ، سیکورٹی عملے اور متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس حکام نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر اب بھی کسی شخص کا عزیز گل پلازہ سانحے میں لاپتا ہے تو فوری طور پر پولیس، ڈی این اے سینٹر یا متعلقہ کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ سرچ آپریشن کے خاتمے کے بعد قانونی کارروائی اگلے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔گل پلازہ سانحہ اب محض ایک حادثہ نہیں رہا، بلکہ یہ ریاستی نگرانی، عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی نظام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔جس کے جواب تفتیش کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔دریں اثنا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم 9 تک شروع کردیں گے، اس میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی ہے، ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی ہوگی، یہ راستہ روزانہ 50 ہزار افراد استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ پر بات کروں گا، جان کا ازالہ کوئی نہیں ہے، ہم متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کی جان گئی اس کے لیے حکومت ایک کروڑ روپے دے گی اور گل پلازہ کی جگہ پر حکومت عمارت بنائے گی، 5 لاکھ روپے گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، کراچی چیمبر کے ساتھ مل کر کام شروع کردیا ہے، نقصانات کو حکومت سندھ پورا کرے گی، دکانوں میں جو سامان پڑا تھاکراچی چیمبر کی مدد سے اسے پورا کریں گے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جب تک گل پلازہ بنے، 2 ماہ تک 5 لاکھ روپے دیں گے، 2 ماہ میں انہیں دکانیں مل جائیں گی تا کہ وہ کاروبار شروع کردیں، محکمہ سندھ انویسٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کو ایک کروڑ روپے دیں گے، قرض پر سود حکومت سندھ ادا کرے گی، جتنی دکانیں تھیں اس سے ایک انچ بھی زیادہ نہیں بنائیں گے، دکانداروں کے ساتھ مل کر گل پلازہ کو دوبارہ کھڑا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ واقعے کا مقدمہ درج کرا لیا ہے، 80 سے اوپر جانیں ضائع ہوئی ہیں، ذمے داروں کو سزا ہوگی، ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں میں مان رہا ہوں، اس واقعے کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی کمیٹیاں بن گئی ہیں، ہر بلڈنگ کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سب کو تہیہ کرنا ہے کہ ٓائندہ اس طرح کا سانحہ دوبارہ نہ ہوں، سروے کے بعد انہیں بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے میں کیا کیا لگانا ہے، جس بلڈنگ نے کچھ نہیں کیا اسے سیل کرنا پڑے گا، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی این اے افراد کی گل پلازہ عمارت کے کے مطابق جائے گا کیا جا کہا کہ کے بعد کے لیے گیا ہے کر دیا
پڑھیں:
اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
سٹی 42 : اوباڑو اور گردونواح میں تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی ہوگئے ۔
پولیس کے مطابق زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، تعلقہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو کی ہدایت پر اسپتال کے تمام عملے کو الرٹ کر دیا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
اسسٹنٹ کمشنر صحیب الاہی کا کہنا ہےکہ شدید آندھی کے باعث مختلف علاقوں میں حادثات پیش آئے، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔