data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹا ف رپورٹر ) گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد ریسکیو، پولیس اور تفتیشی اداروں کی کارروائیاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق تکنیکی ٹیم آج عمارت کے اندرآخری بار سرچ آپریشن انجام دے گی، جس کے بعد گل پلازہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ٹیم کو ملبے تلے دبے مزید 2 افراد کی انسانی باقیات بھی ملی ہیںجس کے بعد اب تک 74 لاشیں ملبے سے برآمد ہو چکی ہیں۔7 لاشوں کو فیشل ریکگنیشن اور شناختی کارڈ کے ذریعے شناخت کیا گیا ہے، پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ شناخت کے لیے تکنیکی پروسیس جاری ہے۔جامعہ کراچی کی ڈی این اے لیب اب تک 16 افراد کی ڈی این اے رپورٹ جاری کرچکی ہے تاہم مجموعی طور پر سانحے میں جاں بحق 23 افراد کو شناخت کیا جاچکا ہے۔آپریشن ٹیم کو ملبے تلے دبے مزید 2 افراد کی انسانی باقیات بھی ملی ہیں جنہیں ڈی این اے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے میچنگ کا عمل جاری ہے۔تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 82 لاپتا افراد تھے، ابھی بھی کسی کاکوئی پیارا لاپتاہے تو رابطہ کرسکتا ہے، ، تاہم ان میں سے 13 لاپتا افراد کے ورثا نے تاحال ڈی این اے سیمپلز فراہم نہیں کیے۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ بارہا اپیلوں کے باوجود اگر مقررہ وقت کے اندر لواحقین نے رابطہ نہ کیا تو ایسے افراد کو لاپتا افراد کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔پولیس کے مطابق 30 لاشوں کا مکمل ڈیٹا حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سرکاری پیکج اور مالی ادائیگی کا عمل شروع کیا جا سکے۔تاہم، ڈی این اے سیمپلز میں تاخیر کے باعث متعدد خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی شناخت کے انتظار میں اذیت ناک کرب سے گزر رہے ہیں۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد بیانات لینے کاسلسلہ جاری ہے۔گل پلازہ میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے معائنہ مکمل کر لیا ہے، پلازہ کی بیسمنٹ میں موجود دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے وڈیوز اور دیگر شواہد سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا ہے گیا ہے ، جس کے بعد عمارت کو سیل کرنے کے کا عمل کے بعد مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ پولیس کے مطابق عمارت کے اطراف لوہے کی شٹرنگ لگائی جا رہی ہے تاکہ کسی غیر مجاز شخص کا داخلہ روکا جا سکے اور شواہد محفوظ رہیں۔سانحے کے اس تاریک پہلو پر بات کرتے ہوئے ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے واضح الفاظ میں کہا کہ غفلت اور لاپروائی کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ لگنے کے باوجود عمارت کے دروازے کیوں نہیں کھولے گئے، اور آیا یہ کوتاہی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔تحقیقاتی افسران کے مطابق ابتدائی شواہد اس خدشے کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایمرجنسی صورتحال میں راستے بند رکھنا کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔ اس حوالے سے عمارت کے مالکان، انتظامیہ، سیکورٹی عملے اور متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس حکام نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر اب بھی کسی شخص کا عزیز گل پلازہ سانحے میں لاپتا ہے تو فوری طور پر پولیس، ڈی این اے سینٹر یا متعلقہ کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ سرچ آپریشن کے خاتمے کے بعد قانونی کارروائی اگلے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔گل پلازہ سانحہ اب محض ایک حادثہ نہیں رہا، بلکہ یہ ریاستی نگرانی، عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی نظام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔جس کے جواب تفتیش کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔دریں اثنا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم 9 تک شروع کردیں گے، اس میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی ہے، ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی ہوگی، یہ راستہ روزانہ 50 ہزار افراد استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ پر بات کروں گا، جان کا ازالہ کوئی نہیں ہے، ہم متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کی جان گئی اس کے لیے حکومت ایک کروڑ روپے دے گی اور گل پلازہ کی جگہ پر حکومت عمارت بنائے گی، 5 لاکھ روپے گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، کراچی چیمبر کے ساتھ مل کر کام شروع کردیا ہے، نقصانات کو حکومت سندھ پورا کرے گی، دکانوں میں جو سامان پڑا تھاکراچی چیمبر کی مدد سے اسے پورا کریں گے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جب تک گل پلازہ بنے، 2 ماہ تک 5 لاکھ روپے دیں گے، 2 ماہ میں انہیں دکانیں مل جائیں گی تا کہ وہ کاروبار شروع کردیں، محکمہ سندھ انویسٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کو ایک کروڑ روپے دیں گے، قرض پر سود حکومت سندھ ادا کرے گی، جتنی دکانیں تھیں اس سے ایک انچ بھی زیادہ نہیں بنائیں گے، دکانداروں کے ساتھ مل کر گل پلازہ کو دوبارہ کھڑا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ واقعے کا مقدمہ درج کرا لیا ہے، 80 سے اوپر جانیں ضائع ہوئی ہیں، ذمے داروں کو سزا ہوگی، ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں میں مان رہا ہوں، اس واقعے کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی کمیٹیاں بن گئی ہیں، ہر بلڈنگ کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سب کو تہیہ کرنا ہے کہ ٓائندہ اس طرح کا سانحہ دوبارہ نہ ہوں، سروے کے بعد انہیں بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے میں کیا کیا لگانا ہے، جس بلڈنگ نے کچھ نہیں کیا اسے سیل کرنا پڑے گا، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی این اے افراد کی گل پلازہ عمارت کے کے مطابق جائے گا کیا جا کہا کہ کے بعد کے لیے گیا ہے کر دیا

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں