سابق امریکی صدر اور ان کی اہلیہ نے ایک پیغام میں لکھا کہ یہ واقعہ ہر امریکی کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو، اس لئے کہ بحیثیت قوم ہماری بہت سی بنیادی اقدار تیزی سے حملے کی زد میں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے دو سابق صدور نے منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کی فائرنگ کے ردعمل میں امریکی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی رائے اور احتجاج کا عوامی سطح پر اظہار کریں اور عملی اقدامات کریں۔امریکہ کے سابق ڈیموکریٹک صدور بل کلنٹن اور باراک اوباما نے ہفتے کے روز ایلکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد مینیسوٹا میں ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اس سانحے کو ایک اہم لمحہ قرار دیا جو امریکیوں سے " آزادانہ طور پر اپنا مطالبہ پیش کرنے" اور اقدام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما نے ایک بیان میں ایلکس پریٹی کی موت کو ایک دل دہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔ اوباما اور ان کی اہلیہ نے ایک پیغام میں لکھا کہ یہ واقعہ ہر امریکی کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو، اس لئے کہ بحیثیت قوم ہماری بہت سی بنیادی اقدار تیزی سے حملے کی زد میں ہیں۔ 

 سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی سوشل میڈیا پر منیاپولس میں ہونے والے واقعات کو خوفناک قرار دیا۔ کلنٹن نے کہا کہ حکام عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم کھڑے ہوں، اپنی رائے کا اظہار کریں اور یہ ظاہر کریں کہ پوری قوم متحد ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط پالیسیوں نے منیاپولس کی سڑکوں کو مظاہرین اور تارکین وطن پر حملے کرکے میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور ان

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو