Islam Times:
2026-06-02@23:54:42 GMT

امریکہ احتجاج کی آگ میں

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

امریکہ احتجاج کی آگ میں

اسلام ٹائمز: اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا بڑا ہمدرد بنا ہوا ہے اور خود کو ان کے انسانی حقوق کے بارے میں بہت پریشان ظاہر کرتا ہے لیکن خود امریکہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی پولیس کے شدت پسندانہ اقدامات اور امریکی شہریوں کے خلاف ان کی جانب سے طاقت کے کھلے استعمال کی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ انہیں اس کام کی مزید شہہ بھی دیتا ہے۔ اس حمایت کے نتیجے میں امریکی پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید بے رحمانہ ہو گیا ہے۔ جب 2020ء میں سیاہ فام امریکی شہری جرج فلوئیڈ کی سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل کے بعد عوامی احتجاج شروع ہوا تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر پولیس کو "سیدھی گولی مار دینے" کا حکم دیا اور کئی بار ان مظاہرین کو سزائے موت دے دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تحریر: رضا عموئی
 
عوامی غم و غصے کی آگ جس نے حال ہی میں امریکہ کے شہر میناپولس کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے امریکہ کے اکثر شہر عوامی احتجاج اور مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں اور مظاہرین پولیس کے ہاتھوں ایک نرس قتل ہونے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ہفتے کے دن سے امریکہ میں احتجاج کی شدت بڑھ گئی ہے اور فلاڈیلفیا سے لے کر لاس اینجلس تک عوام سڑکوں پر نکل کر پولیس کے بے رحمانہ اقدامات کے خلاف اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکہ کی امیگریشن پولیس نے میناپولس شہر میں ایک 37 سالہ خاتون کو اس کی گاڑی میں محض اس وجہ سے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ پولیس کے اشارے پر رکی نہیں ہے۔ یاد رہے یہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ تھی اور وہ بالکل نہتی تھی۔
 
امریکی ذرائع کے بقول صرف فلاڈیلفیا میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے میں مصروف ہیں اور امریکی شہروں میں امیگریشن پولیس کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ریاست مینی سوٹا کی رکن اینجی کریگ بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کی داخلہ سیکورٹی کی وزارت اچھی طرح جانتی ہے کہ کسٹم اور امیگریسن کا شعبہ امریکہ کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔" گذشتہ چند دنوں میں امریکہ کے دیگر شہر جیسے نیویارک، نیو اورلیان، پیٹس برگ، پورٹ لینڈ، سن فرانسیسکو اور واشنگٹن ڈی سی بھی عوامی احتجاج کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہرے اور احتجاج امریکہ کی 20 ریاستوں سے زیادہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ مینی پولس کے میئر نے بھی امیگریشن پولیس کے رویے پر شدید تنقید کی ہے۔
 
امریکیوں کے غصے کی وجہ
امریکہ کا شہر مینی پولس گذشتہ چند سال سے وسیع عوامی احتجاج کا شکار ہے۔ 2020ء میں بھی جب ایک سیاہ فام امریکی شہری، جرج فلوئیڈ ایک سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل ہوا تھا تو مینی پولس کے مرکزی شہر پورٹ لینڈ میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ یہ احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا اور امریکی صدر ٹرمپ نے عوام کو کچلنے کے لیے فیڈرل فوج کے دستے اس شہر بھیج دیے تھے۔ اس وقت بھی ٹرمپ نے اس سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بارے میں تحقیقات کا حکم دینے کی بجائے بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز بھیج دیں جس کے نتیجے میں عوامی غصہ مزید بڑھ گیا اور عوامی احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہوا اور گذشتہ ہفتے بدھ کے روز پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کے قتل کے بعد ٹرمپ نے اس شہر کو فوج کے حوالے کر دیا۔
 
مظاہرین کی گرفتاری
امریکی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے دن عوامی مظاہروں پر پولیس نے ریڈ کیا اور کم از کم 20 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ اس سے پہلے بھی گذشتہ ہفتے بدھ اور جمعرات کے روز منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے 10 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ امریکہ کی امیگریشن پولیس کے ہاتھوں نہتی خاتون کا قتل کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ پولیس اپنی شدت پسندی کے باعث پورے امریکہ میں مشہور ہے۔ ستمبر کے مہینے میں بھی شکاگو شہر میں امیگریشن پولیس کے ایک سپاہی نے گولی مار کے ایک مہاجر کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس شخص پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی گاڑی کے ذریعے پولیس والوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔ مقامی حکومتی عہدیداروں اور عینی شاہدین نے اس الزام کو مسترد کیا اور امیگریشن پولیس کی شدت پسندی کی مذمت کی تھی۔
 
خطرناک پولیس
امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس کی جانب سے ایک خاتون ڈرائیور کا قتل ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں انجام پانے والے پروپیگنڈے کے برعکس، امریکی پولیس انتہائی شدت پسندی پر مبنی اقدامات انجام دیتی ہے اور شہریوں سے ان کا رویہ انتہائی آمرانہ، غیر لچکدار اور شدت پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔ امریکہ کے پولیس اہلکار بہت آسانے سے گولی مار کر عام شہریوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ تر وجہ وہ شدت پسندانہ ثقافت ہے جو امریکہ کے سیکورٹی اداروں پر غالب ہے۔ امریکہ کے نیوز چینل سی این این نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ: "امریکی پولیس جی 7 کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں اپنے شہریوں سے زیادہ شدت پسندی سے پیش آتی ہے اور سیاہ فام شہریوں کے ساتھ اس کا رویہ زیادہ شدت پسندی پر مبنی ہے۔
 
ٹرمپ کی جانب سے پولیس کی شدت پسندی کی حمایت
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا بڑا ہمدرد بنا ہوا ہے اور خود کو ان کے انسانی حقوق کے بارے میں بہت پریشان ظاہر کرتا ہے لیکن خود امریکہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی پولیس کے شدت پسندانہ اقدامات اور امریکی شہریوں کے خلاف ان کی جانب سے طاقت کے کھلے استعمال کی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ انہیں اس کام کی مزید شہہ بھی دیتا ہے۔ اس حمایت کے نتیجے میں امریکی پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید بے رحمانہ ہو گیا ہے۔ جب 2020ء میں سیاہ فام امریکی شہری جرج فلوئیڈ کی سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل کے بعد عوامی احتجاج شروع ہوا تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر پولیس کو "سیدھی گولی مار دینے" کا حکم دیا اور کئی بار ان مظاہرین کو سزائے موت دے دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیگریشن پولیس عوامی احتجاج امریکی پولیس اور امریکی مظاہرین کو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کے ہاتھوں امریکہ کے امریکہ کی لپیٹ میں پولیس کی گولی مار پولیس کے کرتا ہے کا رویہ کیا تھا کے بعد قتل کے ہے اور

پڑھیں:

پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔

امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔

سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔

آج کے نمایاں کرنسی ریٹس

امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان