اسلام ٹائمز: اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا بڑا ہمدرد بنا ہوا ہے اور خود کو ان کے انسانی حقوق کے بارے میں بہت پریشان ظاہر کرتا ہے لیکن خود امریکہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی پولیس کے شدت پسندانہ اقدامات اور امریکی شہریوں کے خلاف ان کی جانب سے طاقت کے کھلے استعمال کی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ انہیں اس کام کی مزید شہہ بھی دیتا ہے۔ اس حمایت کے نتیجے میں امریکی پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید بے رحمانہ ہو گیا ہے۔ جب 2020ء میں سیاہ فام امریکی شہری جرج فلوئیڈ کی سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل کے بعد عوامی احتجاج شروع ہوا تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر پولیس کو "سیدھی گولی مار دینے" کا حکم دیا اور کئی بار ان مظاہرین کو سزائے موت دے دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تحریر: رضا عموئی
عوامی غم و غصے کی آگ جس نے حال ہی میں امریکہ کے شہر میناپولس کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے امریکہ کے اکثر شہر عوامی احتجاج اور مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں اور مظاہرین پولیس کے ہاتھوں ایک نرس قتل ہونے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ہفتے کے دن سے امریکہ میں احتجاج کی شدت بڑھ گئی ہے اور فلاڈیلفیا سے لے کر لاس اینجلس تک عوام سڑکوں پر نکل کر پولیس کے بے رحمانہ اقدامات کے خلاف اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکہ کی امیگریشن پولیس نے میناپولس شہر میں ایک 37 سالہ خاتون کو اس کی گاڑی میں محض اس وجہ سے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ پولیس کے اشارے پر رکی نہیں ہے۔ یاد رہے یہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ تھی اور وہ بالکل نہتی تھی۔
امریکی ذرائع کے بقول صرف فلاڈیلفیا میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے میں مصروف ہیں اور امریکی شہروں میں امیگریشن پولیس کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ریاست مینی سوٹا کی رکن اینجی کریگ بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کی داخلہ سیکورٹی کی وزارت اچھی طرح جانتی ہے کہ کسٹم اور امیگریسن کا شعبہ امریکہ کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔" گذشتہ چند دنوں میں امریکہ کے دیگر شہر جیسے نیویارک، نیو اورلیان، پیٹس برگ، پورٹ لینڈ، سن فرانسیسکو اور واشنگٹن ڈی سی بھی عوامی احتجاج کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہرے اور احتجاج امریکہ کی 20 ریاستوں سے زیادہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ مینی پولس کے میئر نے بھی امیگریشن پولیس کے رویے پر شدید تنقید کی ہے۔
امریکیوں کے غصے کی وجہ
امریکہ کا شہر مینی پولس گذشتہ چند سال سے وسیع عوامی احتجاج کا شکار ہے۔ 2020ء میں بھی جب ایک سیاہ فام امریکی شہری، جرج فلوئیڈ ایک سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل ہوا تھا تو مینی پولس کے مرکزی شہر پورٹ لینڈ میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ یہ احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا اور امریکی صدر ٹرمپ نے عوام کو کچلنے کے لیے فیڈرل فوج کے دستے اس شہر بھیج دیے تھے۔ اس وقت بھی ٹرمپ نے اس سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بارے میں تحقیقات کا حکم دینے کی بجائے بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز بھیج دیں جس کے نتیجے میں عوامی غصہ مزید بڑھ گیا اور عوامی احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہوا اور گذشتہ ہفتے بدھ کے روز پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کے قتل کے بعد ٹرمپ نے اس شہر کو فوج کے حوالے کر دیا۔
مظاہرین کی گرفتاری
امریکی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے دن عوامی مظاہروں پر پولیس نے ریڈ کیا اور کم از کم 20 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ اس سے پہلے بھی گذشتہ ہفتے بدھ اور جمعرات کے روز منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے 10 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ امریکہ کی امیگریشن پولیس کے ہاتھوں نہتی خاتون کا قتل کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ پولیس اپنی شدت پسندی کے باعث پورے امریکہ میں مشہور ہے۔ ستمبر کے مہینے میں بھی شکاگو شہر میں امیگریشن پولیس کے ایک سپاہی نے گولی مار کے ایک مہاجر کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس شخص پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی گاڑی کے ذریعے پولیس والوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔ مقامی حکومتی عہدیداروں اور عینی شاہدین نے اس الزام کو مسترد کیا اور امیگریشن پولیس کی شدت پسندی کی مذمت کی تھی۔
خطرناک پولیس
امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس کی جانب سے ایک خاتون ڈرائیور کا قتل ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں انجام پانے والے پروپیگنڈے کے برعکس، امریکی پولیس انتہائی شدت پسندی پر مبنی اقدامات انجام دیتی ہے اور شہریوں سے ان کا رویہ انتہائی آمرانہ، غیر لچکدار اور شدت پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔ امریکہ کے پولیس اہلکار بہت آسانے سے گولی مار کر عام شہریوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ تر وجہ وہ شدت پسندانہ ثقافت ہے جو امریکہ کے سیکورٹی اداروں پر غالب ہے۔ امریکہ کے نیوز چینل سی این این نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ: "امریکی پولیس جی 7 کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں اپنے شہریوں سے زیادہ شدت پسندی سے پیش آتی ہے اور سیاہ فام شہریوں کے ساتھ اس کا رویہ زیادہ شدت پسندی پر مبنی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پولیس کی شدت پسندی کی حمایت
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا بڑا ہمدرد بنا ہوا ہے اور خود کو ان کے انسانی حقوق کے بارے میں بہت پریشان ظاہر کرتا ہے لیکن خود امریکہ میں اس کا رویہ بالکل برعکس ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی پولیس کے شدت پسندانہ اقدامات اور امریکی شہریوں کے خلاف ان کی جانب سے طاقت کے کھلے استعمال کی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ انہیں اس کام کی مزید شہہ بھی دیتا ہے۔ اس حمایت کے نتیجے میں امریکی پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید بے رحمانہ ہو گیا ہے۔ جب 2020ء میں سیاہ فام امریکی شہری جرج فلوئیڈ کی سفید فام امریکی پولیس افسر کے ہاتھوں قتل کے بعد عوامی احتجاج شروع ہوا تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر پولیس کو "سیدھی گولی مار دینے" کا حکم دیا اور کئی بار ان مظاہرین کو سزائے موت دے دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیگریشن پولیس عوامی احتجاج امریکی پولیس اور امریکی مظاہرین کو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کے ہاتھوں امریکہ کے امریکہ کی لپیٹ میں پولیس کی گولی مار پولیس کے کرتا ہے کا رویہ کیا تھا کے بعد قتل کے ہے اور
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔