data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260127-08-21
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ سے نوری آباد اور کوٹری کے محنت کشوں کے ایک وفد نے ملاقات کی اور اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نوری آباد کے صنعتی علاقوں میں بے شمار فیکٹریوں میں محنت کشوں کو کم از کم اجرت کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے، پورے نوری آباد اسٹیٹ میں چیمبر کے افراد کا قبضہ ہے، نوری آبادکا اسپتال اور لیبر کالونی میں کاٹی کے عہدیداران کی اجازت کے بغیر کوئی رہائش اختیار نہیں کرسکتا ،ورکرز ویلفیئربورڈ کی جانب سے لیبر کالونی محنت کشوں کے نام پر الاٹ کی گئی لیکن محنت کشوں کی الاٹمنٹ ہونے کے باوجود کاٹی کے صدر اپنے ورکرز کے ذریعے محنت کشوں کو رہائش اختیار کرنے دینے کے بجائے ان سے ناجائز مفادات حاصل کرتے ہیں اور تسلیم نہیں کرنے کی صورت میں انہیں فلیٹوں سے بے دخل کردیاجاتا ہے ۔ورکرز ویلفیئر بورڈ کے افسران بھی کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرنے سے قاصر ہیں، ویلفیئر بورڈ کے افسران کو صرف دفاتر تک محدود کردیاجاتا ہے، لیبر کالونی کوٹری میں غیر سرکاری عملے کو تعینات کیاہوا ہے جو دھونس اور دھمکی سے محنت کشوں کو خوف میں مبتلا کرتے ہیں ۔نوری آباد اسپتال میں افسران اورڈاکٹرز کی عدم دلچسپی ہے ،ڈاکٹرز اور اسٹاف غائب رہتا ہے جبکہ پوری تنخواہ سوشل سیکورٹی سے وصول کررہے ہیں جوا نتہائی قابل تکلیف عمل ہے ۔اس موقع پر شکیل احمد شیخ نے کہاکہ محکمہ لیبر، ورکرز ویلفیئر بورڈ، سوشل سیکورٹی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جونوری آباد میں محنت کشوں کے مسائل کو حل میں پیش رفت کرے ،کم از کم اجرت کے قوانین پر مکمل طور پر عمل کروانا لیبر ڈپارنمنٹ کی ذمہ داری ہے جبکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی لیبر کالونی جو کہ محنت کشوں کے لیے قائم کی گئی ہے اسے قبضہ مافیا سے چھڑا کر الاٹ شدہ محنت کشوں رہائش دی جائے اور چوکیداری نظام کو بہتر بنایاجائے ۔سوشل سیکورٹی اسپتال میں ایم ایس مستقل تعینات کیاجائے اور تمام ڈاکٹرز واسٹاف کو ڈیوٹیوں پر پابند کیاجائے ۔غیر ذمہ دار افسران واسٹاف کی تنخواہیں روکی جائیں ۔اس اقدام سے محنت کشوں کو علاج معالجہ اور ادویات کی بہتر سہولت حاصل ہوسکے گی ،چونکہ نوری آباد سندھ کا اہم صنعتی زون ہے اس میں لیبر قوانین کا اطلاق بھی اسی طرح مکمل رائج کی جائے جس طرح کراچی اور دیگر علاقوں میں موجود ہے تاکہ محنت کشون میں تحفظ کا احساس پیدا ہوسکے اور شرپسند عناصر اور قبضہ مافیا سے محنت کشوں کونجات مل سکے ۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورکرز ویلفیئر ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کے محنت کشوں کو لیبر کالونی

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا