پاکستان اور میانمار کے دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور میانمار کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔پاکستان اور میانمار کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور میانمار کے وزیر خارجہ تھان سوی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔قبل ازیں میانمار کے وزیر خارجہ تھان سوی کی دفترخارجہ آمد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ میانمار کے وزیر خارجہ کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اورمیانمار کے دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ ہے، پاکستان اورمیانمار کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میانمار کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، پاکستان میانمار کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان میانمار میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے، میانمار کے ساتھ ثقافت،سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ میانمار تھان سوی نے کہا کہ شاندار میزبانی پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، پاکستان اور میانمار کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے مواقع موجود ہیں۔تھان سوی نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی، زراعت،تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعلقات کے فروغ کا جائزہ لیا گیا، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کیلیے تیار ہیں، مستقبل میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے، مشکلات اورچیلنجز کے باوجود روابط کو قابل قدر بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاکستان اور میانمار کے یادداشت پر دستخط میں تعاون نے کہا کہ تھان سوی تعاون کے کے ساتھ کے فروغ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔