لاہور، سری نگر، اسلام آباد، جموں (کے پی آئی+ آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) کنٹرول لائن کے دونوں طرف کشمیر سمیت دنیا  بھر میں مقیم کشمیریوں نے پیرکو بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس موقع پر کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفاتر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام یادداشتیں پیش کی گئیں جن میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کررکھا ہے۔ مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، جہاں بھارتی انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر کثیر سطحی سکیورٹی کریک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے پورے خطے کو عملی طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ سخت نگرانی، تلاشیوں اور نام نہاد حفاظتی کارروائیوں کے ذریعے بالخصوص جموں اور سری نگر میں غیر معمولی پابندیاں عائد کی گئیں۔ آزاد جموں وکشمیر، پاکستان سمیت بیرون ممالک کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا جبکہ بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئی۔ مظفرآباد سمیت تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات پرریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کئے  گئے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع سامبا میں قابض بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ایک اور بے گناہ شہری کو شہید کر دیا ہے۔ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے ضلع کے رام گڑھ کے علاقے ماجرا میں نام نہاد جھڑپ کے دوران شہری کو گولی مار کر قتل کیا۔ دریں اثناء بھارتی پنجاب پولیس کے اسٹیٹ اسپیشل آپریشن سیل نے چندی گڑھ، پنجاب میں ایک کارروائی کے دوران جموں کے رہائشی رامَن کمار کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے ایک پاکستانی کارکن سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ غزہ کی طرح کشمیر پر بھی خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے۔ مشعال ملک نے کہاکہ کشمیری بھارتی یومِ جمہوریہ پر یومِ سیاہ مناتے ہیں، بھارت کشمیری عوام کا حقِ خود ارادیت مسلسل پامال کر رہا ہے، عالمی امن کی ہر کوشش میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی جان کو خطرات لاحق، فوری رہائی ضروری ہے۔  2000 کے امن عمل کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ کشمیر سنٹر لاہور کے زیراہتمام بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ مناتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مختلف سیاسی وسماجی جماعتوں کے رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جمہوریت دنیا کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑھے وہ دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کشمیری خودارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن بھارت انہیں ان کا پیدائشی جمہوری حق دینے پر تیار نہیں۔ مظاہرے سے سابق مشیر حکومت نصیب اللہ گردیزی، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما انجینئر مشتاق محمود، انچارج کشمیر سنٹر انعام الحسن، صدر مسلم لیگ ن لاہورآزادکشمیر ڈویژن راجہ شہزاد احمد، سینئرنائب صدر معراج دین شاہین، رہنما جموں وکشمیروکلاء  محاذ مرزا عبدالرشید جرال ایڈووکیٹ، کیپٹن (ر) محمد مشتاق، رہنمامحاذ رائے شماری آفتاب نازکی، صدر پی ٹی آئی آزادکشمیر لاہورڈویژن جاوید ڈار، جنرل سیکرٹری ن لیگ بلال بٹ، سکاؤٹس لیڈر محمد اشفاق، سماجی رہنما نازیہ بٹ، مقبول اعوان، چوہدری صدیق، علامہ مشتاق قادری، علامہ فداء  الرحمان، انوار قاضی، پروفیسر محمد مظہر عالم، نعیم بٹ، نوید ملک، بشارت وہرا، محمود کشمیری، فیصل فابانی، مقصود چغتائی، فکر اقبال فاؤنڈیشن کے عبدالمنان، نذر بھنڈر اور دیگر نے خطاب کیا۔خیبر پی کے اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد کے متن میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: یوم جمہوریہ بھارتی یوم یوم سیاہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع