WE News:
2026-06-02@22:31:23 GMT

کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟

18ویں آئینی ترمیم پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت 18ویں ترمیم واپس کرنے جا رہی اور کیا واقعی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنا چاہتی ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو ’ڈھکوسلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز ہو گئے ہیں۔

ان کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں مؤثر بلدیاتی نظام کے بغیر انتظامی ناکامیوں کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کی مثال کراچی کے گل پلازہ کی حالیہ آتشزدگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی

خواجہ آصف کے بیان پر پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت واضح کرے آیا وہ 18ویں ترمیم پر نظرثانی چاہتی ہے یا نہیں، کیونکہ ملک مزید آئینی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ’غلط استعمال‘ پر تنقید کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی مالیاتی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق این ایف سی کو عملی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے اور صوبوں کے حصے میں کمی نہ ہونے والی شق پر نظرثانی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ

ایم کیو ایم رکن اسمبلی سید حفیظ الدین نے کہا کہ صوبائی حکومتیں وفاق سے فنڈز لے کر آگے منتقل نہیں کر رہیں اور بلدیاتی نظام کو دانستہ غیر مؤثر رکھا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات کو بروقت اور لازمی بنایا جائے اور پورے ملک میں یکساں بلدیاتی قوانین نافذ کیے جائیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت 28ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں سے اختیارات واپس لے کر وفاق کو دینا چاہتی ہے، جس کی ان کی جماعت مخالفت کرے گی۔

مزید پڑھیں:26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟

ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام اور بلدیاتی نظام جیسے معاملات خالصتاً صوبائی ہیں اور ان میں وفاقی مداخلت صوبائی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کی تیاری جاری ہے اور اس ضمن میں اتحادی جماعتوں سے غیر رسمی مشاورت ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق آئینی ترمیم اپریل کے آخر میں بجٹ سے قبل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں بلدیاتی نظام کو فعال بنانے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی، جن پر پہلے پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

18ویں ترمیم آئینی ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ آصف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضیٰ گل پلازہ وزیر دفاع.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 18ویں ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ ا صف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضی گل پلازہ وزیر دفاع 28ویں آئینی ترمیم بلدیاتی نظام ایم کیو ایم 18ویں ترمیم ترمیم کے کے مطابق

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا