WE News:
2026-07-24@04:52:49 GMT

کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟

18ویں آئینی ترمیم پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت 18ویں ترمیم واپس کرنے جا رہی اور کیا واقعی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنا چاہتی ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو ’ڈھکوسلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز ہو گئے ہیں۔

ان کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں مؤثر بلدیاتی نظام کے بغیر انتظامی ناکامیوں کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کی مثال کراچی کے گل پلازہ کی حالیہ آتشزدگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی

خواجہ آصف کے بیان پر پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت واضح کرے آیا وہ 18ویں ترمیم پر نظرثانی چاہتی ہے یا نہیں، کیونکہ ملک مزید آئینی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ’غلط استعمال‘ پر تنقید کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی مالیاتی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق این ایف سی کو عملی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے اور صوبوں کے حصے میں کمی نہ ہونے والی شق پر نظرثانی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ

ایم کیو ایم رکن اسمبلی سید حفیظ الدین نے کہا کہ صوبائی حکومتیں وفاق سے فنڈز لے کر آگے منتقل نہیں کر رہیں اور بلدیاتی نظام کو دانستہ غیر مؤثر رکھا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات کو بروقت اور لازمی بنایا جائے اور پورے ملک میں یکساں بلدیاتی قوانین نافذ کیے جائیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت 28ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں سے اختیارات واپس لے کر وفاق کو دینا چاہتی ہے، جس کی ان کی جماعت مخالفت کرے گی۔

مزید پڑھیں:26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟

ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام اور بلدیاتی نظام جیسے معاملات خالصتاً صوبائی ہیں اور ان میں وفاقی مداخلت صوبائی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کی تیاری جاری ہے اور اس ضمن میں اتحادی جماعتوں سے غیر رسمی مشاورت ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق آئینی ترمیم اپریل کے آخر میں بجٹ سے قبل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں بلدیاتی نظام کو فعال بنانے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی، جن پر پہلے پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

18ویں ترمیم آئینی ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ آصف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضیٰ گل پلازہ وزیر دفاع.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 18ویں ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ ا صف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضی گل پلازہ وزیر دفاع 28ویں آئینی ترمیم بلدیاتی نظام ایم کیو ایم 18ویں ترمیم ترمیم کے کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن