کیا 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس لی جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
18ویں آئینی ترمیم پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت 18ویں ترمیم واپس کرنے جا رہی اور کیا واقعی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنا چاہتی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو ’ڈھکوسلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز ہو گئے ہیں۔
ان کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں مؤثر بلدیاتی نظام کے بغیر انتظامی ناکامیوں کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کی مثال کراچی کے گل پلازہ کی حالیہ آتشزدگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی
خواجہ آصف کے بیان پر پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت واضح کرے آیا وہ 18ویں ترمیم پر نظرثانی چاہتی ہے یا نہیں، کیونکہ ملک مزید آئینی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ’غلط استعمال‘ پر تنقید کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی مالیاتی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق این ایف سی کو عملی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے اور صوبوں کے حصے میں کمی نہ ہونے والی شق پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ
ایم کیو ایم رکن اسمبلی سید حفیظ الدین نے کہا کہ صوبائی حکومتیں وفاق سے فنڈز لے کر آگے منتقل نہیں کر رہیں اور بلدیاتی نظام کو دانستہ غیر مؤثر رکھا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات کو بروقت اور لازمی بنایا جائے اور پورے ملک میں یکساں بلدیاتی قوانین نافذ کیے جائیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت 28ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں سے اختیارات واپس لے کر وفاق کو دینا چاہتی ہے، جس کی ان کی جماعت مخالفت کرے گی۔
مزید پڑھیں:26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟
ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام اور بلدیاتی نظام جیسے معاملات خالصتاً صوبائی ہیں اور ان میں وفاقی مداخلت صوبائی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کی تیاری جاری ہے اور اس ضمن میں اتحادی جماعتوں سے غیر رسمی مشاورت ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق آئینی ترمیم اپریل کے آخر میں بجٹ سے قبل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں بلدیاتی نظام کو فعال بنانے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی، جن پر پہلے پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
18ویں ترمیم آئینی ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ آصف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضیٰ گل پلازہ وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 18ویں ترمیم ایم کیو ایم این ایف سی بیرسٹر عقیل ملک خواجہ ا صف ڈاکٹر فاروق ستار ڈھکوسلہ کامران مرتضی گل پلازہ وزیر دفاع 28ویں آئینی ترمیم بلدیاتی نظام ایم کیو ایم 18ویں ترمیم ترمیم کے کے مطابق
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔