میرٹ میں کمی کے باوجود میڈیکل کالجز میں نشستیں خالی، نئے ڈاکٹروں کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اس سال میڈیکل کالجز میں داخلوں کی صورتحال غیر معمولی تبدیلی کا شکار نظر آ رہی ہے جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
جہاں ماضی میں داخلہ میرٹ 95 فیصد سے شروع ہوا کرتا تھا، وہیں اب یہ کم ہو کر تقریباً 60 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک بھر کے متعدد میڈیکل کالجز میں نشستیں خالی پڑی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کنگ حمد انسٹی ٹیوٹ نرسنگ و میڈیکل سائنسز میں نئے معیار قائم کرے گا، جنرل ساحر شمشاد مرزا
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ رجحان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ والدین اب میڈیکل شعبے کی زمینی حقیقتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے لگے ہیں۔ ایک ایسا پیشہ جو کبھی وقار، تحفظ اور روشن مستقبل کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج شدید ذہنی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، محدود مالی فوائد اور بڑھتے ہوئے قانونی و پیشہ ورانہ خطرات کی زد میں ہے۔
تاہم داخلہ میرٹ میں نمایاں کمی ایک نہایت اہم اور تشویشناک سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا محض 60 فیصد نمبرز کے ساتھ میڈیکل کالج میں داخل ہونے والے طلبا سے وہ علمی، عملی اور اخلاقی اہلیت متوقع کی جا سکتی ہے جو ایک محفوظ، ذمہ دار اور معیاری ڈاکٹر بننے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے اور اگر نشستیں خالی رہ رہی تھیں، تو کیا معیار برقرار رکھنے کے لیے نشستوں کو خالی چھوڑنا زیادہ بہتر فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا؟
یہ بھی پڑھیے: بالاکوٹ: پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے مفت میڈیکل کیمپ
پمز اسپتال کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ معیارِ تعلیم اور مریضوں کی حفاظت کے تناظر میں، اگر کسی مرحلے پر اہل اور مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو نشستوں کو خالی رکھنا ایک ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے معیارات کے بعد پاکستان میں مستند ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی ایک حقیقت ہے، تاہم اس کمی کو جواز بنا کر میرٹ پر سمجھوتہ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
اسی تناظر میں نشستیں خالی رکھنا معیار کے تحفظ کے لیے ایک درست قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے پاس MBBS کے دوران تعلیمی طور پر کمزور طلبا کی بروقت نشاندہی اور معیار پورا نہ کرنے کی صورت میں ان کی پیش رفت کو روکنے کا نظام کس حد تک فعال اور مؤثر ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم محض تعداد بڑھانے کی خاطر معیار پر سمجھوتہ کریں گے تو اس کے منفی اثرات مستقبل میں نہ صرف مریضوں کی جان اور تحفظ پر پڑیں گے بلکہ شعبے کی ساکھ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل ربی، صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلام آباد، اور ماہرِ انتہائی نگہداشت کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میڈیکل کے شعبے کا شدید رجحان پایا جاتا تھا اور والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی تھی کہ ان کا بچہ ڈاکٹر بنے مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اس تبدیلی کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم میڈیکل تعلیم کے معیار میں مسلسل گراوٹ ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی کے مطابق وہ حال ہی میں بیرونِ ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے طلبا کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے امتحانات میں بطور ممتحن شامل رہے، جہاں خاص طور پر وسطی ایشیا، بالخصوص کرغزستان کے بعض نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی انتہائی کمزور تعلیمی حالت دیکھ کر انہیں شدید افسوس ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کئی طلبا کو طب کے بنیادی تصورات تک کا درست علم نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ پراجیکٹ کے لیے 212 ارب روپے منظور
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ وہاں دیہی اور دور دراز علاقوں میں عمارتیں کرائے پر لے کر مقامی اور پاکستانی عناصر کے اشتراک سے نام نہاد میڈیکل کالجز اور جامعات قائم کی گئیں، جنہیں مختلف طریقوں سے پاکستانی اداروں کے ساتھ منسلک یا تسلیم شدہ کروایا گیا۔ اس پورے عمل نے میڈیکل تعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کیا۔
ان کے مطابق اس کے برعکس ایران، گیمبیا اور حتیٰ کہ افغانستان جیسے ممالک میں میڈیکل تعلیم کا معیار نسبتاً بہتر پایا گیا۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھاکہ اس وقت ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، مگر معیار خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ دوسری جانب نجی میڈیکل کالجز میں فیسیں بے تحاشا وصول کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک طالب علم نجی میڈیکل کالج سے 5 برس میں تقریباً 2 کروڑ روپے خرچ کر کے ایم بی بی ایس مکمل کرتا ہے، مگر ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد جیسے شہر میں بھی اسے صرف 50 سے 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، جو ایک عام ڈرائیور کی آمدنی کے برابر ہے۔ ایسی صورتِ حال میں تعلیم پر خرچ کی گئی رقم کئی برسوں میں بھی واپس حاصل کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے نتائج کا اعلان، پہلی تینوں پوزیشنیں طالبات کے نام
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف ایم بی بی ایس کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ اسپیشلائزیشن ناگزیر ہو چکی ہے، مگر اس میں سب سے بڑا مسئلہ انڈکشن کا ہے۔ قابلیت کے باوجود بڑی تعداد میں ڈاکٹرز کو اسپیشلائزیشن کے مواقع نہیں ملتے، اور اگر کوئی ڈاکٹر اسپیشلائزیشن مکمل بھی کر لے تو مزید مہارت کے بغیر مناسب روزگار یا معقول تنخواہ کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی نے بطور ایک سینیئر ماہر اور سابق شعبہ جاتی سربراہ بتایا کہ وہ خود اس نظام سے اس قدر مایوس ہیں کہ اپنا پاسپورٹ ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں، تاکہ اگر ملک سے باہر کام کا کوئی موقع ملے تو فوراً جا سکیں۔ ان کے مطابق سرکاری تنخواہ کا نصف سے زیادہ حصہ صرف رہائش کے کرائے میں خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ باقی رقم میں خاندان کی کفالت ممکن نہیں رہتی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں صحت کے شعبے پر مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ تو ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہتر ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اسپتالوں میں ضروری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر فضل ربی کا کہنا تھا کہ جو ڈاکٹر اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بہتری لانا چاہتے ہیں، انہیں بھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اسپتالوں میں جدید آلات، مناسب نرسنگ عملہ اور تربیت یافتہ تکنیکی اسٹاف کی کمی کے باعث مریضوں کو وہ علاج فراہم نہیں ہو پاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کنسلٹنٹ کا آدھے گھنٹے کا دورہ باقی ساڑھے 23 گھنٹوں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا، کیونکہ مریض کی نگہداشت کا زیادہ تر دارومدار جونیئر ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے پر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایس پی شہر بانو پر سنگین الزامات، آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا
انہوں نے اسپتالوں کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر مقامات پر درست فرد کو درست ذمہ داری دینے کے اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے، سیاسی مداخلت عام ہے، اور نااہل افراد اہم عہدوں پر تعینات کر دیے جاتے ہیں، جس کے باعث جونیئر ڈاکٹروں اور ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت اور نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی کے مطابق آج نہ تو ڈاکٹر کی وہ عزت باقی رہی ہے، نہ پیشہ ورانہ تحفظ، نہ مالی استحکام، اور نہ ہی ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ چاہے ان کے بچے کتنے ہی ذہین اور قابل کیوں نہ ہوں، وہ انہیں ڈاکٹر نہیں بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی والدین کے پاس دو کروڑ روپے ہوں تو بہتر ہے کہ وہ اس رقم سے اپنے بچے کے لیے کوئی کاروبار شروع کروا دیں، بجائے اس کے کہ 15 سے 16 سال تعلیم میں لگا کر بھی اسے بے روزگاری یا انتہائی کم تنخواہ والی ملازمت کی طرف دھکیل دیا جائے۔
کرن فاطمہ، جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے، انہوں نے پاکستان میں ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ ابتدائی طور پر ان کے والدین نے تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے، اس امید کے ساتھ کہ کرن ایک کامیاب اور معتبر ڈاکٹر بنیں گی۔ کرن نے پاکستان میں تقریباً 4 سال کام کیا، لیکن اس دوران انہیں ملک میں محدود روزگار کے مواقع، کم تنخواہ اور پیچیدہ پیشہ ورانہ نظام کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے پاکستان چھوڑا تو ان کی تنخواہ تقریباً 80 ہزار روپے ماہانہ تھی، جو تعلیم اور محنت کے حساب سے ناکافی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ریاض میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کا روڈ شو، پاکستانی سفارتخانے میں انعقاد
بہتر پیشہ ورانہ استحکام اور مالی تحفظ کے لیے کرن نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہیں اور ایک اسپتال میں فزیوتھراپسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں انہیں مناسب تربیت، پیشہ ورانہ احترام اور اچھی تنخواہ مل رہی ہے۔ کرن کے بقول، لندن میں ان کا پیشہ نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہے بلکہ انہیں اپنے علم اور مہارت کو بروئے کار لانے کا بہترین موقع بھی مل رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں رہتیں، تو شاید اگلے 10 سال بھی اتنی تنخواہ حاصل نہیں کر پاتیں۔
ایک سوال کے جواب میں کرن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے والدین اس قابل تھے کہ یہ سہولت فراہم کر سکیں، مگر وہ بے شمار ڈاکٹرز کو بھی جانتی ہیں، جو 4 سال کی شدید محنت اور سرمایہ کاری کے باوجود بھی محض ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما پاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے، کیونکہ ان کے پاس مالی وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ بیرونِ ملک تعلیم یا پیشہ ورانہ مواقع حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے معائنے اور منظوری کے عمل پر میڈیا میں آنے والی خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کونسل کے مطابق 2019–20 میں سابقہ پی ایم سی نے 15 کالجوں کو غیر قانونی طور پر عارضی منظوری دی تھی، جس کے بعد پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت طلبا کے مفادات کے تحفظ کے لیے داخلے معطل کیے گئے اور قانونی طریقے سے معائنے شروع کیے گئے۔
ادارے کے مطابق اب تک 11 کالجوں کا معائنہ مکمل ہو چکا ہے، ایک کا شیڈول طے کیا جا رہا ہے جبکہ 3 ادارے لازمی شرائط پوری نہ کر سکے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ معائنے عالمی معیار کے مطابق، شفاف اور میرٹ پر مبنی ہیں، منظوری کے نوٹیفکیشن وفاقی حکومت جاری کرتی ہے، اور بدعنوانی یا جانبداری کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ کونسل نے اصلاحات، ڈیجیٹل نظام اور عالمی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے معیار اور شفافیت کے عزم کو دہرایا۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ ایک قابلِ ذکر تعداد ایسے طلبا کی بھی ہو سکتی ہے جو بار بار کی کوششوں، اضافی سہولتوں اور مسلسل بیرونی دباؤ کے سہارے آگے بڑھیں، جو مجموعی طور پر مستقبل کے میڈیکل پروفیشنلز کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Admission Health Medical Medical College داخلہ ڈاکٹر صحت طب علاج قابلیت معیار میڈیکل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: داخلہ ڈاکٹر علاج قابلیت معیار میڈیکل میڈیکل کالجز میں ان کا کہنا تھا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فضل ربی ایم بی بی ایس پاکستان میں نشستیں خالی ان کے مطابق پیشہ ورانہ کے باوجود کے معیار معیار پر انہوں نے جاتا ہے کے ساتھ رہی ہے کہ اگر پی ایم کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔