میرٹ میں کمی کے باوجود میڈیکل کالجز میں نشستیں خالی، نئے ڈاکٹروں کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اس سال میڈیکل کالجز میں داخلوں کی صورتحال غیر معمولی تبدیلی کا شکار نظر آ رہی ہے جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
جہاں ماضی میں داخلہ میرٹ 95 فیصد سے شروع ہوا کرتا تھا، وہیں اب یہ کم ہو کر تقریباً 60 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک بھر کے متعدد میڈیکل کالجز میں نشستیں خالی پڑی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کنگ حمد انسٹی ٹیوٹ نرسنگ و میڈیکل سائنسز میں نئے معیار قائم کرے گا، جنرل ساحر شمشاد مرزا
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ رجحان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ والدین اب میڈیکل شعبے کی زمینی حقیقتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے لگے ہیں۔ ایک ایسا پیشہ جو کبھی وقار، تحفظ اور روشن مستقبل کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج شدید ذہنی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، محدود مالی فوائد اور بڑھتے ہوئے قانونی و پیشہ ورانہ خطرات کی زد میں ہے۔
تاہم داخلہ میرٹ میں نمایاں کمی ایک نہایت اہم اور تشویشناک سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا محض 60 فیصد نمبرز کے ساتھ میڈیکل کالج میں داخل ہونے والے طلبا سے وہ علمی، عملی اور اخلاقی اہلیت متوقع کی جا سکتی ہے جو ایک محفوظ، ذمہ دار اور معیاری ڈاکٹر بننے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے اور اگر نشستیں خالی رہ رہی تھیں، تو کیا معیار برقرار رکھنے کے لیے نشستوں کو خالی چھوڑنا زیادہ بہتر فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا؟
یہ بھی پڑھیے: بالاکوٹ: پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے مفت میڈیکل کیمپ
پمز اسپتال کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ معیارِ تعلیم اور مریضوں کی حفاظت کے تناظر میں، اگر کسی مرحلے پر اہل اور مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو نشستوں کو خالی رکھنا ایک ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے معیارات کے بعد پاکستان میں مستند ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی ایک حقیقت ہے، تاہم اس کمی کو جواز بنا کر میرٹ پر سمجھوتہ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
اسی تناظر میں نشستیں خالی رکھنا معیار کے تحفظ کے لیے ایک درست قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے پاس MBBS کے دوران تعلیمی طور پر کمزور طلبا کی بروقت نشاندہی اور معیار پورا نہ کرنے کی صورت میں ان کی پیش رفت کو روکنے کا نظام کس حد تک فعال اور مؤثر ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم محض تعداد بڑھانے کی خاطر معیار پر سمجھوتہ کریں گے تو اس کے منفی اثرات مستقبل میں نہ صرف مریضوں کی جان اور تحفظ پر پڑیں گے بلکہ شعبے کی ساکھ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل ربی، صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلام آباد، اور ماہرِ انتہائی نگہداشت کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میڈیکل کے شعبے کا شدید رجحان پایا جاتا تھا اور والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی تھی کہ ان کا بچہ ڈاکٹر بنے مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اس تبدیلی کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم میڈیکل تعلیم کے معیار میں مسلسل گراوٹ ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی کے مطابق وہ حال ہی میں بیرونِ ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے طلبا کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے امتحانات میں بطور ممتحن شامل رہے، جہاں خاص طور پر وسطی ایشیا، بالخصوص کرغزستان کے بعض نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی انتہائی کمزور تعلیمی حالت دیکھ کر انہیں شدید افسوس ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کئی طلبا کو طب کے بنیادی تصورات تک کا درست علم نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ پراجیکٹ کے لیے 212 ارب روپے منظور
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ وہاں دیہی اور دور دراز علاقوں میں عمارتیں کرائے پر لے کر مقامی اور پاکستانی عناصر کے اشتراک سے نام نہاد میڈیکل کالجز اور جامعات قائم کی گئیں، جنہیں مختلف طریقوں سے پاکستانی اداروں کے ساتھ منسلک یا تسلیم شدہ کروایا گیا۔ اس پورے عمل نے میڈیکل تعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کیا۔
ان کے مطابق اس کے برعکس ایران، گیمبیا اور حتیٰ کہ افغانستان جیسے ممالک میں میڈیکل تعلیم کا معیار نسبتاً بہتر پایا گیا۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھاکہ اس وقت ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، مگر معیار خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ دوسری جانب نجی میڈیکل کالجز میں فیسیں بے تحاشا وصول کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک طالب علم نجی میڈیکل کالج سے 5 برس میں تقریباً 2 کروڑ روپے خرچ کر کے ایم بی بی ایس مکمل کرتا ہے، مگر ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد جیسے شہر میں بھی اسے صرف 50 سے 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، جو ایک عام ڈرائیور کی آمدنی کے برابر ہے۔ ایسی صورتِ حال میں تعلیم پر خرچ کی گئی رقم کئی برسوں میں بھی واپس حاصل کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے نتائج کا اعلان، پہلی تینوں پوزیشنیں طالبات کے نام
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف ایم بی بی ایس کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ اسپیشلائزیشن ناگزیر ہو چکی ہے، مگر اس میں سب سے بڑا مسئلہ انڈکشن کا ہے۔ قابلیت کے باوجود بڑی تعداد میں ڈاکٹرز کو اسپیشلائزیشن کے مواقع نہیں ملتے، اور اگر کوئی ڈاکٹر اسپیشلائزیشن مکمل بھی کر لے تو مزید مہارت کے بغیر مناسب روزگار یا معقول تنخواہ کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی نے بطور ایک سینیئر ماہر اور سابق شعبہ جاتی سربراہ بتایا کہ وہ خود اس نظام سے اس قدر مایوس ہیں کہ اپنا پاسپورٹ ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں، تاکہ اگر ملک سے باہر کام کا کوئی موقع ملے تو فوراً جا سکیں۔ ان کے مطابق سرکاری تنخواہ کا نصف سے زیادہ حصہ صرف رہائش کے کرائے میں خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ باقی رقم میں خاندان کی کفالت ممکن نہیں رہتی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں صحت کے شعبے پر مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ تو ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہتر ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اسپتالوں میں ضروری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر فضل ربی کا کہنا تھا کہ جو ڈاکٹر اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بہتری لانا چاہتے ہیں، انہیں بھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اسپتالوں میں جدید آلات، مناسب نرسنگ عملہ اور تربیت یافتہ تکنیکی اسٹاف کی کمی کے باعث مریضوں کو وہ علاج فراہم نہیں ہو پاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کنسلٹنٹ کا آدھے گھنٹے کا دورہ باقی ساڑھے 23 گھنٹوں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا، کیونکہ مریض کی نگہداشت کا زیادہ تر دارومدار جونیئر ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے پر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایس پی شہر بانو پر سنگین الزامات، آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا
انہوں نے اسپتالوں کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر مقامات پر درست فرد کو درست ذمہ داری دینے کے اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے، سیاسی مداخلت عام ہے، اور نااہل افراد اہم عہدوں پر تعینات کر دیے جاتے ہیں، جس کے باعث جونیئر ڈاکٹروں اور ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت اور نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر فضل ربی کے مطابق آج نہ تو ڈاکٹر کی وہ عزت باقی رہی ہے، نہ پیشہ ورانہ تحفظ، نہ مالی استحکام، اور نہ ہی ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ چاہے ان کے بچے کتنے ہی ذہین اور قابل کیوں نہ ہوں، وہ انہیں ڈاکٹر نہیں بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی والدین کے پاس دو کروڑ روپے ہوں تو بہتر ہے کہ وہ اس رقم سے اپنے بچے کے لیے کوئی کاروبار شروع کروا دیں، بجائے اس کے کہ 15 سے 16 سال تعلیم میں لگا کر بھی اسے بے روزگاری یا انتہائی کم تنخواہ والی ملازمت کی طرف دھکیل دیا جائے۔
کرن فاطمہ، جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے، انہوں نے پاکستان میں ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ ابتدائی طور پر ان کے والدین نے تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے، اس امید کے ساتھ کہ کرن ایک کامیاب اور معتبر ڈاکٹر بنیں گی۔ کرن نے پاکستان میں تقریباً 4 سال کام کیا، لیکن اس دوران انہیں ملک میں محدود روزگار کے مواقع، کم تنخواہ اور پیچیدہ پیشہ ورانہ نظام کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے پاکستان چھوڑا تو ان کی تنخواہ تقریباً 80 ہزار روپے ماہانہ تھی، جو تعلیم اور محنت کے حساب سے ناکافی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ریاض میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کا روڈ شو، پاکستانی سفارتخانے میں انعقاد
بہتر پیشہ ورانہ استحکام اور مالی تحفظ کے لیے کرن نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہیں اور ایک اسپتال میں فزیوتھراپسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں انہیں مناسب تربیت، پیشہ ورانہ احترام اور اچھی تنخواہ مل رہی ہے۔ کرن کے بقول، لندن میں ان کا پیشہ نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہے بلکہ انہیں اپنے علم اور مہارت کو بروئے کار لانے کا بہترین موقع بھی مل رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں رہتیں، تو شاید اگلے 10 سال بھی اتنی تنخواہ حاصل نہیں کر پاتیں۔
ایک سوال کے جواب میں کرن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے والدین اس قابل تھے کہ یہ سہولت فراہم کر سکیں، مگر وہ بے شمار ڈاکٹرز کو بھی جانتی ہیں، جو 4 سال کی شدید محنت اور سرمایہ کاری کے باوجود بھی محض ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما پاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے، کیونکہ ان کے پاس مالی وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ بیرونِ ملک تعلیم یا پیشہ ورانہ مواقع حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے معائنے اور منظوری کے عمل پر میڈیا میں آنے والی خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کونسل کے مطابق 2019–20 میں سابقہ پی ایم سی نے 15 کالجوں کو غیر قانونی طور پر عارضی منظوری دی تھی، جس کے بعد پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت طلبا کے مفادات کے تحفظ کے لیے داخلے معطل کیے گئے اور قانونی طریقے سے معائنے شروع کیے گئے۔
ادارے کے مطابق اب تک 11 کالجوں کا معائنہ مکمل ہو چکا ہے، ایک کا شیڈول طے کیا جا رہا ہے جبکہ 3 ادارے لازمی شرائط پوری نہ کر سکے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ معائنے عالمی معیار کے مطابق، شفاف اور میرٹ پر مبنی ہیں، منظوری کے نوٹیفکیشن وفاقی حکومت جاری کرتی ہے، اور بدعنوانی یا جانبداری کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ کونسل نے اصلاحات، ڈیجیٹل نظام اور عالمی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے معیار اور شفافیت کے عزم کو دہرایا۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ ایک قابلِ ذکر تعداد ایسے طلبا کی بھی ہو سکتی ہے جو بار بار کی کوششوں، اضافی سہولتوں اور مسلسل بیرونی دباؤ کے سہارے آگے بڑھیں، جو مجموعی طور پر مستقبل کے میڈیکل پروفیشنلز کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Admission Health Medical Medical College داخلہ ڈاکٹر صحت طب علاج قابلیت معیار میڈیکل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: داخلہ ڈاکٹر علاج قابلیت معیار میڈیکل میڈیکل کالجز میں ان کا کہنا تھا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فضل ربی ایم بی بی ایس پاکستان میں نشستیں خالی ان کے مطابق پیشہ ورانہ کے باوجود کے معیار معیار پر انہوں نے جاتا ہے کے ساتھ رہی ہے کہ اگر پی ایم کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔