امریکا: ایموری یونیورسٹی نے ایرانی سکیورٹی عہدیدار کی بیٹی کو ملازمت سے برطرف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکا کی ایموری یونیورسٹی نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فاطمہ لاریجانی ایموری یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے وابستہ تھیں اور بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق فاطمہ اردشیر لاریجانی میڈیکل اسکول میں ہیماٹولوجی اور میڈیکل آنکولوجی کے شعبے میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ ایموری یونیورسٹی کے ون شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ فاطمہ لاریجانی اب ادارے کی ملازم نہیں رہیں، تاہم ان کی برطرفی کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ارل کارٹر نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کی بیٹی کو ملازمت سے برطرف کیا جائے اور ان کا میڈیکل لائسنس بھی منسوخ کیا جائے۔ اس معاملے کے بعد یونیورسٹی کے فیصلے کو سیاسی اور سفارتی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایموری یونیورسٹی
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔