بسنت 2026: مفت ٹرانسپورٹ اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے خصوصی سہولت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: حکومتِ پنجاب نے بسنت 2026 کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر شہریوں کی حفاظت، ٹریفک کی روانی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی اور سہولتی پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سخت قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو مفت پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات فراہم کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت سے پہلے، دوران یا بعد میں غیر قانونی پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روزہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی حفاظتی پلان تیار کیا گیا ہے۔
قانون طاقت کے آگے جھکا تو دنیا عدم استحکام کی لپیٹ میں آجائے گی:پاکستان
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والی تقریبات کے دوران موٹر سائیکل سواروں میں 10 لاکھ حفاظتی تاریں تقسیم کی گئی ہیں، جو موٹر سائیکلوں کے اگلے حصے پر لگائی جائیں گی تاکہ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
پنجاب پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے بسنت کے تینوں دن 6 ہزار خصوصی رکشے، 500 بسیں اور 60 ہزار آن لائن کار سروسز فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کے دوران تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، جس میں سرکاری بسیں اور ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز بھی شامل ہیں۔
شدید بارش اور برفباری، بالائی علاقوں میں سڑکیں بند، معمولاتِ زندگی متاثر
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی بدستور برقرار ہے، جو پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کے تحت نافذ ہے۔ تاہم روایتی بسنت میلے کے انعقاد کے لیے 6 سے 8 فروری تک محدود اجازت دی گئی ہے۔ مقررہ دنوں اور اوقات کے علاوہ پتنگ بازی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی نے 24 دسمبر کو اکثریتی ووٹ سے یہ قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سال تک قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں جبکہ پتنگ اور ڈور کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت پر سات سال تک قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 10.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔