وفاقی کابینہ کمیٹی نے بیورو کریسی اور ججوں کی دہری شہریت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کمیٹی نے بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا، کمیٹی ارکان نے کہا کہ ججوں کی بھی دہری شہریت ختم کی جائے، سولہ تاریخ کو اس کا فیصلہ کریں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں کابینہ کمیٹی کے ارکان نے دہری شہریت کے خاتمے کے حق میں ووٹ دے دیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ابرار احمد نے کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ ججوں کی دہری شہریت بھی ختم کی جائے۔
رکن کمیٹی نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ اگر اراکینِ پارلیمنٹ کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں تو بیورو کریسی کو یہ سہولت کیوں حاصل ہے؟ انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بہن یا بیٹی بھی دہری شہریت رکھتی ہو تو وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔
وزیر مملکت طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ ان کی بیٹی آسٹریلین نیشنل تھی، جس نے شہریت چھوڑ کر پارلیمنٹ میں آنے کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر سیکریٹری کابینہ نے واضح کیا کہ اگر پارلیمنٹ فیصلہ کرے تو حکومت قانون سازی کے لیے تیار ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اگرچہ 21 ممالک میں دہری شہریت کی اجازت ہے تاہم اس کے باوجود بعض افراد دیگر ممالک کی شہریت بھی حاصل کرلیتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس اہم معاملے پر 16 تاریخ کو حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ سمری کس نے کابینہ کے سامنے پیش کی؟ سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے وضاحت کی کہ وزارت خارجہ کی سمری پر کابینہ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی اور وزیراعظم کی بات بالکل درست ہے۔
اجلاس میں وفاقی سیکریٹریز کو 90 ہزار روپے سفری الاؤنس دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ نور عالم خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تمام پابندیاں صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہیں جبکہ افسران کو ہر سہولت حاصل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی کے مطابق سرکاری گاڑی لینے والے افسران کو الاؤنس نہیں ملنا چاہیے، مگر عملاً افسران دونوں سہولتیں لے رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری کابینہ کو ہدایت کی کہ اس پالیسی پر موثر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے تاہم سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے افسران سے عمل درآمد کی تصدیق (سرٹیفکیٹ) لینے کی شرط ختم کرنے کی حمایت نہیں کی۔
اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کو حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
وفاقی کابینہ کی سیکریٹریٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن کمیٹی نورعالم خان نے کہا کہ میری بہن بیٹی اگر دہری شہریت رکھے تو میں اس کے ساتھ بھی نہ بیٹھوں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ 21 ممالک میں دہری شہریت کی اجازت ہے مگر اس کے باوجود دیگر ممالک میں بھی شہریت لیتے ہیں۔ سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ اگر آپ کو فیصلہ کرنا ہے تو کریں ہم قانون بنا دیں گے۔
نور عالم خان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ دہری شہریت نہیں رکھ سکتی تو بیورو کریسی کیوں رکھتی ہے؟
رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ میری بیٹی آسٹریلین نیشنل ہے وہ شہریت چھوڑ کر پارلیمنٹ میں آئی۔
کابینہ کمیٹی کے ارکان نے بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کے لیے ووٹ دے دیا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ ججوں کی بھی دہری شہریت ختم کی جائے، سولہ تاریخ کو اس کا فیصلہ کریں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی دہری شہریت ختم کرنے سیکریٹری کابینہ بیورو کریسی کی کابینہ کمیٹی اجلاس میں رکن کمیٹی نے کہا کہ ارکان نے کمیٹی نے ججوں کی دے دیا کہ اگر
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔