برفانی قیامت میں سیکیورٹی فورسز ڈھال بن گئیں، ضلع کرم میں پھنسے مسافر محفوظ، سڑکیں بحال
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پشاور:
ضلع کرم میں شدید بارشوں اور غیر معمولی برف باری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر امدادی کارروائیوں نے صورتحال کو قابو میں لے لیا۔
مسلسل اور شدید برف باری کے نتیجے میں زمینی رابطے منقطع ہونے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ہنگامی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔
مقامی آبادی کی مدد اور اہم شاہراہوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری اور تربیت یافتہ افرادی قوت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ سڑکوں سے برف ہٹا کر تمام اہم زمینی راستے مکمل طور پر بحال کر دیے، جس کے بعد علاقے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل ممکن ہو سکی۔
زمینی رابطوں کی بحالی سے مقامی افراد کو منڈیوں اور مراکزِ صحت تک دوبارہ رسائی حاصل ہو گئی۔
امدادی کارروائیوں کے دوران شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا۔
خراب موسم اور دشوار گزار حالات کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان ذاتی طور پر آپریشنز کی نگرانی کرتے رہے۔
بروقت اور پیشہ ورانہ اقدامات کے باعث عوام کو شدید مشکلات سے نجات ملی، جس پر مقامی شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی خدمات کو بھرپور سراہا۔
سیکیورٹی فورسز قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں عوام کی جان و مال کے تحفظ اور فوری امداد کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔