بلوچستان میں بارش اور برف باری کی ایک اور لہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش اور برف باری کی ایک اور لہر آئی ہے جس کا اثر صوبے بھر میں دیکھا جا رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت زیارت، کوژک ٹاپ، شیلا باغ، کان مہترزئی، خانوزئی اور مسلم باغ میں برف باری کے بعد متعدد سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔
شدید سردی کے باعث بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گیس پریشر میں کمی، بجلی بند ہونے سے شہری پریشانی کا شکار ہیں۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم شدید سرد رہا۔
دوسری جانب کوئٹہ کے شہری سخت سردی میں بجلی کی بندش اور گیس پریشر میں کمی کی شکایات کر رہے ہیں۔
مری میں بھی برف باری کا نیا سلسلہ جاری ہے۔
سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ محدود کردیا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت کے مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری ریکارڈ کی گئی ہے۔
غذر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور میدانی علاقوں بارش ہوئی۔
وادی تیراہ میں برف باری سےمتاثرہ 2 ہزار 400 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے ساتھ ہی مرکزی شاہراہ بھی بحال کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔