کراچی کی ٹرام سروس سے گل پلازہ تک، کب کیا ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ نے جہاں کراچی کی شہری انتظامیہ کی بدحالی کو عیاں کیا ہے وہیں ایک سیاسی محاذ بھی کھل گیا ہے، کوئی بھی سانحہ گل پلازہ کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جس کے کاندھے پر پورے صوبہ سندھ کا بوجھ ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی ذمہ دار متحدہ قومی مومنٹ اور جماعت اسلامی ہیں۔
ان کے مطابق 35 سال جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے کراچی پر راج کیا،کراچی کو اس حال تک پہنچانے والی یہ 2 جماعتیں ہیں، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے سانحات کے متاثرین کی مکمل مالی معاونت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ایف آئی آر درج، واقعہ ’غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ‘ قرار
اس بیان کے تناظر میں اگر بات کی جائے گل پلازہ کی تو اس مقام کی تاریخ کیا ہے اور کیا یہ شروع سے ہی گل پلازہ ہے یا اس مقام پر کچھ اور تھا؟
سینئیر صحافی اور مصنف شاہ ولی اللہ جنیدی سمجھتے ہیں کہ کراچی کی تاریخ صرف عمارتوں اور سڑکوں کی کہانی نہیں، یہ منصوبہ بندی، غفلت اور طاقتور مفادات کے درمیان کچلی گئی عوامی سہولتوں کی داستان بھی ہے۔
شاہ ولی اللہ جنیدی کے مطابق اپریل 1885 میں جب سندھ کے کمشنر ہنری نیپئر بی ایرکسن نے وکٹوریہ روڈ موجودہ عبداللہ ہارون روڈ پر سینٹ اینڈریو چرچ کے قریب کراچی کی پہلی ٹرام سروس کا افتتاح کیا تو یہ شہر جدید شہری سہولتوں کے دور میں داخل ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں:گل پلازہ کا ’قبرستان‘ جہاں 1200 دکانوں کا ملبہ جمع کیا جا رہا ہے
اس سے قبل اکتوبر 1884 میں اسٹیم پاور سے چلنے والی ٹرام کی تیاری کا آغاز ہوا اور جلد ہی کراچی کی سڑکوں پر یہ ٹرامیں دوڑنے لگیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والی یہ ٹرامیں، جن کے چیف انجینیئر جان برنٹن تھے، شہر کی پہچان بن گئیں۔
بولٹن مارکیٹ ان کا جنکشن تھا جبکہ ایم اے جناح روڈ اور گارڈن روڈ کے سنگم پر واقع ٹرام کمپاؤنڈ (گودی) اس نظام کا دل تھا، 1945 میں ڈیزل سے چلنے والی ٹراموں کا آغاز ہوا اور یہ سہولت 13 اپریل 1975 تک کراچی والوں کی ہمسفر رہی۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
لیکن 13 اپریل 1975ء کراچی کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن ثابت ہوا، جب پبلک ٹرانسپورٹ کی یہ اہم سہولت بند کر دی گئی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ٹرام گودی کی زمین پر، جو کراچی میونسپل کارپوریشن کی ملکیت تھی، ایک جدید تجارتی منصوبہ جنیکا سینٹر کے نام سے شروع کیا گیا۔
یہ منصوبہ تیزی سے تعمیر کے مراحل میں تھا کہ 1977 کی سیاسی ہلچل نے اسے تکمیل سے محروم رکھا، برسوں تک یہ عمارت شہر کے وسط میں ایک ادھورا خواب بنی کھڑی رہی، بعدازاں اس پروجیکٹ کو دو حصوں یعنی اسپورٹس کمپلیکس اور کمرشل کمپلیکس میں تقسیم کرکے نئے سرے سے ڈیزائن کیا گیا۔
اس وقت کے گورنر سندھ محمد میاں سومرو نے اس کی بحالی کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی تھی اور اسے اسپورٹس کمپلیکس کی بحالی کی ذمہ داری سونپی تھی، جہاں اب ڈپٹی کمشنر کمپلیکس قائم ہے۔
مزید پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، مالک کے حوالے کردیا گیا
جنرل ضیا الحق کے دور میں جنیکا سینٹر سے متصل زمین پر میمن برادری سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت گل محمد خانانی نے ایک مارکیٹ تعمیر کروائی جو گل پلازہ کہلائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پلازہ شہر کی بڑی تجارتی منڈیوں میں شامل ہو گیا، مگر اس کی بنیادوں میں قانونی ابہام اور انتظامی خامیاں خاموشی سے پنپتی رہیں۔
حال ہی میں گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے نہ صرف سینکڑوں دکانوں کو خاکستر کر دیا بلکہ انتظامی اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے، جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز اور کراکری کی سینکڑوں دکانیں چند گھنٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ عمارت کا ایک حصہ بھی زمین بوس ہو گیا۔
مزید پڑھیں: آرٹس کونسل کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب، شمعیں روشن
ریکارڈز کے مطابق کہانی مزید الجھ جاتی ہے کے ایم سی کے مطابق گل پلازہ کے پلاٹ کا ٹائٹل جنیکا انٹرپرائز کے نام ہے اور 1991 میں اس کی لیز دی گئی، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریکارڈ میں گل محمد خانانی کو مالک ظاہر کیا گیا ہے۔
کے ایم سی ریکارڈ میں 1991 کے بعد کوئی تصحیح موجود نہیں، جبکہ ایس بی سی اے کے مطابق 1998 میں پلازہ میں اضافی منزل تعمیر کی گئی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو بھی پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔
صحافی شاہ ولی اللہ جنیدی کے مطابق نقشے کے مطابق بیسمنٹ سمیت 3 منزلوں اور 1021 دکانوں کی اجازت تھی، مگر تعمیر کی گئیں 1200 دکانیں یعنی 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد، 2003 میں اضافی منزل کو ریگولرائز کیا گیا اور کمپلیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان
یہ سب کچھ اس نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں خلاف ورزی پہلے ہوتی ہے اور منظوری بعد میں، ماضی میں معروف بلڈر رفیق جاپان والا مرحوم گل پلازہ کی مینجمنٹ دیکھتے رہے، جس کے باعث عام تاثر یہی رہا کہ پلازہ انہی کی ملکیت ہے، مگر اب کاغذات میں گل محمد خانانی کا نام سامنے آنا کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا کہ گل پلازہ کا اصل قانونی مالک کون ہے، دکانوں کی سب لیز کس کے نام پر اور کن شرائط پر کی گئی، کے ایم سی اور ایس بی سی اے نے تعمیرات کے دوران قانونی تقاضے واقعی پورے کروائے یا نہیں، اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
جب قوانین کاغذوں میں دفن کر دیے جائیں اور انسانی جانوں کو نظر انداز کیا جائے تو پھر گل پلازہ جیسے سانحات جنم لیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرام سروس ذوالفقار علی بھٹو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شاہ ولی اللہ جنیدی کراچی گل پلازہ گورنر سندھ محمد میاں سومرو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ذوالفقار علی بھٹو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شاہ ولی اللہ جنیدی کراچی گل پلازہ گورنر سندھ محمد میاں سومرو شاہ ولی اللہ جنیدی سانحہ گل پلازہ گل پلازہ کی مزید پڑھیں کے مطابق کراچی کی کیا گیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔