چینی ماہرین نے رائفل بردار ڈرون تیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ووہان گائیڈ انفراریڈ اور چینی فوج کے ادارے آرمی سپیشل آپریشنز اکیڈمی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر ایک منفرد اور جدید رائفل بردار ڈرون تیار کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ یہ رائفل ہوا میں پرواز کرتے ہوئے 100 سے 150 میٹر دور موجود ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ڈرون میں وہی معیاری رائفل نصب کی جا سکتی ہے جو اس وقت چینی افواج استعمال کر رہی ہیں، اس جدید ڈرون کا مقصد خطرناک، پیچیدہ اور دشوار گزار علاقوں میں تعینات دشمن فوجیوں کو نشانہ بنانا ہے تاکہ چینی فوجیوں کی جانوں کو براہِ راست خطرے میں ڈالے بغیر کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔
جرنل آف گن لانچ اینڈ کنٹرول کے دسمبر کے شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق تجرباتی مرحلے میں اس ڈرون نے زمین سے 10 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے معیاری رائفل کے ذریعے 100 میٹر دور انسانی قد کے ہدف پر 20 سنگل فائر کیے جن میں سے تمام گولیاں ہدف پر لگیں اور اس طرح 100 فیصد ہٹ ریٹ حاصل کیا گیا۔
مزید برآں، 20 میں سے 10 گولیاں صرف 11 سینٹی میٹر کے دائرے کے اندر لگیں، جو اس نظام کی غیرمعمولی درستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی