وزیراعلیٰ پنجاب کی ہر ضلع میں سٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سٹی42: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فالج (سٹروک) کے علاج اور مریضوں کی فوری نگہداشت کو بہتر بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہر ضلع میں سٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال میں نیورالوجسٹ اور پیڈز نیورالوجسٹ تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا
وزیراعلیٰ نے فالج کے مریضوں کے لیے ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ فوری شروع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ضلعی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے سپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ سے ٹیلی فونک رابطہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود فالج کے علاج کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم کی قیادت کریں گی اور فالج کے علاج میں گولڈن آورز کی اہمیت کو اجاگر کریں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید ہدایت کی کہ ہر ضلع میں ایک ڈاکٹر اور ایک نرس کو فوری طور پر تین ماہ کی سٹروک مینجمنٹ ٹریننگ دی جائے جبکہ ریسکیورز کو بھی سٹروک مینجمنٹ ٹریننگ کرانے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے پنجاب کے ہر چلڈرن ہسپتال میں سٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ کسی مریض کو علاج کے لیے بڑے شہر نہ جانا پڑے۔
معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے
خصوصی اجلاس کے دوران پمز کے نیورالوجسٹ ڈاکٹر قاسم بشیر نے سٹروک مینجمنٹ پروگرام پر بریفنگ دی اور بتایا کہ 25 سال سے زائد العمر افراد میں ہر 4 میں سے ایک شخص کو فالج کا خطرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فالج کے پری ہاسپٹل، ہاسپٹل اور پوسٹ ہاسپٹل کیئر کے لیے عوامی آگاہی اور ٹریننگ لازمی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 سٹروک مینجمنٹ انہوں نے فالج کے کے علاج کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔