بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیاں خواتین کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، برندا کرات
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ معاشرے، خاندان اور معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود خواتین کو انکی محنت کے مطابق پہچان اور حقوق نہیں مل رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن (AIDWA) کی قومی سرپرست اور سابق رکن پارلیمنٹ برندا کرات نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے لئے بی جے پی اور آر ایس ایس حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ معاشرے، خاندان اور معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود خواتین کو ان کی محنت کے مطابق پہچان اور حقوق نہیں مل رہے ہیں۔ حیدرآباد کے آر ٹی سی کلیان منڈپم میں اتوار کو ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن کی 14ویں قومی کانفرنس بڑے دھوم دھام سے شروع ہوئی۔ اس سے پہلے باغ لنگمپلی میں سندریا سائنس سینٹر سے بس بھون کے قریب میدان تک ایک ریلی نکالی گئی۔ ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن کے قومی صدر پی کے سریماتھی نے پرچم لہرایا اور اداکارہ روہنی نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ 26 ریاستوں سے 850 مندوبین اور 150 خصوصی مہمانوں نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب اور کانفرنس کے دوران کئی مقررین نے اجتماع سے خطاب کیا۔
اپنی تقریر میں برندا کرات نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے لئے سب سے بڑا خطرہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہیں۔ وہ جن "منوسمرتی" پر مبنی پالیسیوں کی پیروی کرتی ہیں وہ خواتین کی ترقی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ آر ایس ایس اور مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت برابری، مذہبی ہم آہنگی اور سیکولرازم کو بلڈوز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن اس کے خلاف لڑ رہی ہے۔ مودی حکومت روزگار گارنٹی اسکیم کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے، جو کہ بہت سی خواتین کو روزگار فراہم کرتی ہے، خواتین کو اسے بحال کرنے کے لئے لڑنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت غریبوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہم ووٹوں کی فہرست میں خواتین کے لئے خصوصی مہم چلا رہے ہیں۔ بی جے پی ان ریاستوں میں جہاں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں خواتین کو آزادی اور مساوات صرف تحریکوں کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آر ایس ایس خواتین کو انہوں نے بی جے پی رہی ہے کے لئے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔