فرانس کا بڑا فیصلہ: 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پیرس: فرانس کی قومی اسمبلی نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی سے متعلق بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل کو حتمی قانون بننے کے لیے اب فرانسیسی سینیٹ سے منظوری درکار ہوگی۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام بچوں کو آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور ذہنی صحت کو لاحق بڑھتے خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ذہنی مسائل اور تشدد کے رجحان میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
بل کے تحت مڈل اسکولوں میں اسمارٹ فون کے استعمال پر عائد پابندی کو ہائی اسکولوں تک بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ تعلیمی ماحول بہتر بنایا جا سکے اور بچوں کی توجہ تعلیم پر مرکوز رہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکروں پہلے ہی نوجوانوں میں بڑھتے تشدد اور منفی رویوں کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کو قرار دے چکے ہیں۔ وہ آسٹریلیا کی طرز پر فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کے حامی ہیں۔
اگر یہ بل سینیٹ سے بھی منظور ہو جاتا ہے تو فرانس ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جہاں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو قانونی طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔