کسی کو ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے استعمال کرنے نہیں دیں گے؛ متحدہ عرب امارات
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے لیے کسی خلیجی ملک کی سرزمین کے استعمال کے امکان پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے USS Abraham Lincoln کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے۔
جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری بیڑہ خلیج عمان کے قریب پہنچ گیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا۔
قبل ازیں امریکی صدر نے خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ہماری نگاہیں ہدف اور اگلیاں ٹرگر پر ہیں، بس روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات ایران پر
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔