تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
چین کے معروف پالیسی ماہر اور سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ امریکا تائیوان کی نام نہاد علیحدگی کے لیے اپنے کسی فوجی یا افسر کا خون نہیں بہائے گا۔
وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت تاریخ کے فطری دھارے کے خلاف ہے اور یہ ون چائنا پالیسی کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی اکثریت پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کر چکی ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔
امریکی پالیسی پر سوالاتچینی ماہر نے کہا کہ اگرچہ امریکا بعض اوقات تائیوان کے حوالے سے سخت بیانات دیتا ہے، لیکن عملی طور پر واشنگٹن تائیوانی علیحدگی پسندوں کے لیے براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گا۔
یہ بھی پڑھیے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے پر چین کی جانب سے امریکی دفاعی کمپنیوں، عہدیداروں پر پابندی
ان کے بقول’امریکا تائیوان کے نام نہاد علیحدگی پسند ایجنڈے کے لیے کسی امریکی فوجی یا افسر کی جان قربان نہیں کرے گا۔‘
ون چائنا اصول کی خلاف ورزی پر تنقیدوکٹر گاؤ نے زور دیا کہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت نہ صرف چین کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ون چائنا اصول کی بھی نفی ہے، جس پر اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی فورمز پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے تائیوان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو کچل دیا جائے گا، چین کا واضح پیغام
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ چین بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ تائیوان اس کا اندرونی معاملہ ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہ تائیوان تائیوان کے کے لیے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔