WE News:
2026-06-03@01:17:21 GMT

ایک تھا ونڈر بوائے

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

ونڈر بوائے کا تذکرہ چلا تو یاد آیا تحریک انصاف کا بھی ایک ونڈر بوائے ہوتا تھا، کوئی بتا سکتا ہے کہ قافلہ انقلاب کا یہ مردِ بحران آج کل کہاں پایا جاتا ہے؟

اس جواں بخت کا نام پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں پہلی بار سننے کو ملا۔ سرگوشیاں ہونے لگیں کہ زرداری حکومت کا چل چلاؤ ہے کیونکہ ایک ایسا ونڈر بوائے تلاش کر لیا گیا ہے جو ایک سہانی شام کو وزارت عظمیٰ کا حلف لے گا تو روپے کی دستار بندی ہو جائے گی، معیشت قدموں پر اٹھ کھڑی ہو گی، دسمبر گرم ہو جائے گا، خزاں میں پھول کھل اٹھیں گے اور جون میں برفیں اتریں گی۔

پھر جانے کیا ہوا کہ پرستانوں سے آئے اس گھبرو کو تحریک انصاف کے پنگھٹ پر اتار دیا گیا۔ عمران خان کے بعد، یہ واحد گھبرو تھا، سکھیوں نے جس کے لیے گیت گائے۔ یہ تحریک انصاف کا ایسا شہہ بالا تھا جس پر خود  دولہا بھی صدقے واری ہوتا تھا۔

عمران خان کے بعد یہ تحریک انصاف کا اکلوتا رہنما تھا جس کی سیاست میں تشریف آوری کو اس قوم پر ایک احسان قرار دیا گیا۔ بتایا جاتا کہ یہ بھی خان صاحب کی طرح شہزادوں جیسی زندگی گزار رہا تھا، اسے کیا ضرورت تھی سیاست کی۔ یہ تو بس قوم کی خدمت کے جذبے سے بے قرار ہوا اور عمران خان کی طرح  سیاست میں آ گیا۔

مجنوں نے لیلیٰ کے لیے اتنے گیت نہیں گائے ہوں گے جتنی عمران خان نے اس کے لیے رباعیاں پڑھیں۔ ہر دوسری میٹنگ میں صحافیوں کو بتایا جاتا کہ یہ پہلو میں جو لعل احمر رکھا ہے یہ 80 لاکھ روپے تنخواہ پر نوکری کر رہا تھا لیکن ملک اور قوم کی خاطر اس نے 80 لاکھ کی نوکری کو لات ماری اور سیاست میں آ گیا۔

یہ ونڈر بوائے حلقہ انتخاب سے محروم تھا، اسے اسلام آباد  میں لا کر الیکشن لڑوایا گیا۔ اسلام آباد میں نہ مقامی حکومت ہے، نہ یہاں صوبائی اسمبلی ہے نہ کوئی ایم پی اے اس شہر سے ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کا ٹکٹ بھی کسی مقامی کی بجائے اس ونڈر بوائے کو دے دیا گیا۔

ونڈر بوائے عمران خان کی سیاسی ٹیم کا نائب کپتان تھا۔  تحریک انصاف کا میانداد سمجھ لیجیے۔ بس فرق اتنا تھا کہ میانداد کو شاید ہی کبھی کپتان نے اس محبت سے دیکھا ہو جس محبت سے وہ اس ونڈر بوائے کے سہرے کہا کرتا تھا۔

ویسے تو یہ سارا قافلہ انقلاب ہی پانیوں پر کشیدہ کاری جیسا تھا لیکن ونڈر بوائے نے تو حیران ہی کر دیا۔  یہ بائیس سالہ جدوجہد کی آخری بہار کا شگوفہ تھا۔ اقتدار ملا تو معیشت کی زمام کار اس کے حصے میں آئی اور صاحب وزیر خزانہ بن بیٹھے۔ وزیر خزانہ جناب اسد عمر۔

موصوف نے آتے ہی وہ بڑھکیں مارنا شروع کر دیں کہ الامان۔ سیدھے آئی ایم ایف کو طعنے اور کوسنے دیے۔ تیاری تھی نہیں، بس سطحی بیان تھے اور تھم نیل تھے اور سوشل میڈیا کے مجذوبوں کی و اہ واہ کی صدائیں تھیں۔ اس ہاؤ ہو کے تماشے کا  نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت پاپولزم کی آگ میں جھلس گئی۔ آئی ایم ایف نے پھر ناک سے لکیریں کھنچوائیں تو بانکے میاں  سے وزارت لے لی گئی۔ بائیس سالہ جدو جہد میں تیار کی گئی ٹیم کی ہنڈیا تو چوراہے میں اوندھی ہو ہی گئی، ظلم یہ ہوا کہ معیشت بھی اوندھی ہو گئی۔

یہ معلوم انسانی تاریخ کی پہلی حکومت تھی جس کے بعض  وزرائے کرام ہاتھ نچا نچا کر کہا کرتے تھے: آئے ہائے بچُو جی، ہم جلد دیوالیہ ہونے والے ہیں، پکی بات ہے، دیکھ لینا تم لوگ۔

اسد عمر صاحب کے پاس کوئی حلقہ انتخاب نہیں تھا۔ وہ پارٹی کے اولین لوگوں میں سے بھی نہیں تھے، پارٹی کے لیے کوئی غیر معمولی خاص خدمات بھی نہیں تھیں، بائیس سالہ طلسماتی جدوجہد میں ان کی شمولیت شاید بائیس مہینوں سے کچھ ہی زیادہ ہو گی۔ لیکن وہ آئے، انہوں نے دیکھا اور وہ چھا گئے۔ وہ پنجاب کے وسیم اکرم پلس سے صرف دو کلو کم وزن کا حیرت کدہ تھے۔

پارٹی پر جیسے ہی مشکل وقت آیا، صاحب برف کی طرح تحلیل ہو گئے۔ کبھی کبھی یاد آتے تو میں دل کو تسلی دیتا کہ ونڈر بوائے شاید عثمان بزدار کے ساتھ مل کر کسی دور افتادہ پہاڑ کی غار میں انقلاب لانے کا کوئی ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں اور جلد ہی باہر آ کر وہ اس کا اعلان کریں گے جسے سن کر  وادیاں، پہاڑ، چشمے، جھرنے سب جھوم اٹھیں گے کہ کہیں سے ابرار الحق کو لاؤ، ہمارا نچنے نوں دل کر رہا ہے۔

چند روز پہلے ایران اور امریکا میں تناؤ بڑھا تو ونڈر بوائے نے ایک بار پھر للکارا کہ ایران میں کچھ ہوا تو میں بھی ایرانی عوام کے ساتھ میدان میں آ کر رجز پڑھوں گا۔ ونڈر بوائے کے اس ٹویٹ پر ہزاروں دل فدا ہوئے پڑے ہیں لیکن میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ یہ ونڈر بوائے اڈیالہ میں رکھے اپنے رہنما  کے لیے  تو دو دن گھر سے باہر نہیں نکلا، یہ پڑوس میں جا کر کون سے کمالات دکھائے گا۔

پورس کے ہاتھی تو سن رکھے تھے ، یہ سوشل میڈیا کے ہاتھی پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

اردو کالم آصف محمود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اردو کالم تحریک انصاف کا ونڈر بوائے کے لیے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی