امریکا میں برفانی طوفان سے نظام زندگی منجمد، دفاتر اور سکول بند، 30 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکا میں برفانی طوفان سے نظام زندگی منجمد، دفاتر اور سکول بند، 30 افراد ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکا میں شدید برفانی طوفان نے نظام زندگی منجمد کردیا، برفباری کے باعث مختلف حادثات میں 30 افراد ہلاک ہوگئے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن، نیویارک، ٹیکساس، اوکلاہوما، نیوجرسی سمیت درجنوں ریاستوں میں سرد ہواؤں کے ساتھ شدید برف باری اور بارش جاری ہے۔
برفانی طوفان کے باعث امریکا بھر میں 19 ہزار پروازیں منسوخ ہوگئیں، واشنگٹن میں وفاقی دفاتر بند ہیں، آرکنساس سے نیو انگلینڈ تک ایک فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے، شدید خراب موسم کے باعث سڑکیں اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
پٹسبرگ کے شمالی علاقوں میں 20 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ درجہ حرارت منفی 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، کچھ علاقوں میں دہائیوں کی شدید ترین سردی محسوس کی گئی۔ نیویارک سٹی میں 8 افراد کی لاشیں کھلے مقامات سے ملی ہیں۔
بارش اور برفانی طوفان کے باعث 10 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں، 44 ریاستوں کے تقریبا 20 کروڑ افراد کے لیے شدید ترین ٹھنڈ کی وارننگ جاری کی گئی ہے، 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید شدید سردی اور ممکنہ طور پر ایک اور برفانی طوفان مشرقی ساحلی علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران کیخلاف فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: یواے ای کا اعلان ایران کیخلاف فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: یواے ای کا اعلان پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد آئی سی سی نے بنگلادیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون: نئے افق کی طرفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: برفانی طوفان
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔