Express News:
2026-07-24@03:44:00 GMT

افغانستان میں انسانی حقوق خطرے میں، طالبان کے تعزیری ضابطے پر کڑی تنقید

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

کابل: افغان طالبان حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے تعزیری سزاؤں سے متعلق ضابطۂ قانون کو افغان عوام سمیت عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین، سابق افغان حکام اور عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ شہری آزادیوں کو دبانے اور معاشرے کو خوف کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔

اقوام متحدہ میں افغانستان کے لیے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا ہے کہ سزاؤں سے متعلق اس دستور کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے اور اس سے انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

افغان قومی سلامتی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے اس ضابطے کو مذہب کا سیاسی استعمال اور سخت گیر سوچ کی عکاسی قرار دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کے قوانین معاشرے میں انصاف کے بجائے جبر کو فروغ دیتے ہیں۔

آسٹریا میں افغانستان کی سفیر منیزہ بختری نے کہا کہ نیا ضابطہ ایک آمرانہ نظریے کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں قانون کو انصاف کے بجائے سماجی کنٹرول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ تعزیری ضابطہ انسانی وقار، شہری مساوات اور قانونی انصاف کی بنیادی اقدار کو پامال کرتا ہے، جبکہ افغانستان ویمنز جسٹس موومنٹ نے کہا ہے کہ یہ قانون تشدد اور امتیاز کو سرکاری طور پر جائز قرار دیتا ہے۔

افغان شہریوں نے بھی سوشل میڈیا پر اس ضابطے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بے رحمانہ سماجی درجہ بندی اور ظالمانہ امتیاز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے ان اقدامات سے افغانستان میں انسانی حقوق مزید متاثر ہوں گے اور معاشرتی و سیاسی ڈھانچہ شدید کمزور ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن