بھارت: گینگسٹر گولڈی برار کے والدین بھتہ خوری کیس میں پنجاب سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بھارتی پنجاب کی پولیس نے بیرونِ ملک مقیم گینگسٹر گولڈی برار کے والدین کو 2024ء کے ایک بھتہ خوری کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ گولڈی برار کے والد شمشیر سنگھ اور والدہ پریت پال کور کو پیر کے روز حراست میں لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتار ملزمان ضلع مکسر کے آدیش نگر علاقے میں واقع اپنے گھر میں مقیم تھے جبکہ ان کا آبائی تعلق ضلع فریدکوٹ سے ہے۔ یہ مقدمہ مکسر کے ایک رہائشی کی شکایت پر 2024 میں درج کیا گیا تھا۔
گولڈی برار کے والدین کے خلاف یہ کارروائی ریاست میں گینگسٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کے تحت 60 بیرونِ ملک مقیم گینگسٹرز کے تقریباً 1200 ساتھیوں اور 600 اہلِ خانہ کے افراد کے نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ستیندر جیت سنگھ عرف گولڈی برار 2022ء میں مشہور پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے مرکزی ملزمان میں شامل ہے اور اس قتل کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گولڈی برار اس وقت امریکا میں موجود ہے۔ وہ 2017ء میں اسٹڈی ویزے پر کینیڈا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ لارینس بشنوئی گینگ کا سرگرم رکن تھا تاہم گزشتہ سال اس نے اس گینگ سے علیحدگی اختیار کرکے برار، روہت گودارا، کالا جتھیڑی گینگ سے وابستگی اختیار کر لی۔
بھارتی حکومت نے 2024ء میں گولڈی برار کو غیر قانونی سرگرمیوں، سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے اسلحہ لانے، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے اور بھارت میں قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت دہشت گرد قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔