Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:25:57 GMT

آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات

کراچی:گنے کی قیمت فروخت اور شوگر ملوں کی گنے کے کاشتکاروں کو دی جانے والی مراعات میں خطیر اضافے کے تناظر میں کاٹن جننگ سیکٹر نے آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہرکردیے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے بتایاکہ گنے سے پیداوار سے ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کامعیار متاثر ہے، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں غیر معمولی کمی کے باوجود اس کی کھپت بڑامسئلہ بن گیا ہے۔

پڑوسی ملک بھارت میں اسکے برعکس حیران کن طور پرکاٹن ایئر 2025-26 کیلیے اپنی کپاس کا پیداواری ہدف مزید بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث گذشتہ چند سالوں کے دوران بیشتر کاٹن زونز میں گنے کی کاشت میں تسلسل سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

نئی شوگر ملوں کے قیام سے ناصرف پاکستان میں کپاس کی کاشت اور مجموعی پیداوار میں ریکارڈکمی واقع ہوئی ہے، بلکہ گنے کی کاشت کے باعث اس سے پیدا ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی سے کپاس کا معیار بھی بری طرح متاثر ہونے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمد کنندگان کا انحصار درآمدی روئی پر بڑھ گیا ہے۔

جس کے باعث پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ایک کروڑ 48لاکھ گانٹھ سے کم ہوکر صرف 55لاکھ گانٹھ تک محدود ہے لیکن اس کے باوجود مقامی کاٹن جنرز اپنے روئی کے ذخائر فروخت کرنے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ شوگرملز مالکان اپنے گنے کے کاشتکاروں کوکھاد،زرعی ادویات اورزرعی آلات کے نام پر ہر سال اربوں روپے مالیت کے قرضوں کی سہولت دے رہے ہیں، جبکہ رواں سال گنے کی قیمتیں کم از کم 25 فیصد اضافے کے بعد اب 500 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہیں،جس میں مزیداضافے کے بھی اطلاعات ہیں۔

ان عوامل کے باعث خدشہ ہے کہ کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران ملک بھر میں گنے کی کاشت میں اضافہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی کاشت میں کپاس کی کے باعث گنے کی

پڑھیں:

مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔

خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔

مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم