Express News:
2026-07-24@07:41:48 GMT

آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

کراچی:

گنے کی قیمت فروخت اور شوگر ملوں کی گنے کے کاشتکاروں کو دی جانے والی مراعات میں خطیر اضافے کے تناظر میں کاٹن جننگ سیکٹر نے آئندہ سال کپاس کی کاشت میں مزید کمی کے خدشات ظاہرکردیے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے بتایاکہ گنے سے پیداوار سے ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کامعیار متاثر ہے، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں غیر معمولی کمی کے باوجود اس کی کھپت بڑامسئلہ بن گیا ہے۔ 

پڑوسی ملک بھارت میں اسکے برعکس حیران کن طور پرکاٹن ایئر 2025-26 کیلیے اپنی کپاس کا پیداواری ہدف مزید بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث گذشتہ چند سالوں کے دوران بیشتر کاٹن زونز میں گنے کی کاشت میں تسلسل سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں

برآمدی سرگرمیاں گھٹنے سے 150 ٹیکسٹائل ملز اور 400 کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال

ہائبرڈ کاٹن کی کاشت سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہ ہوسکا

نئی شوگر ملوں کے قیام سے ناصرف پاکستان میں کپاس کی کاشت اور مجموعی پیداوار میں ریکارڈکمی واقع ہوئی ہے، بلکہ گنے کی کاشت کے باعث اس سے پیدا ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی سے کپاس کا معیار بھی بری طرح متاثر ہونے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمد کنندگان کا انحصار درآمدی روئی پر بڑھ گیا ہے۔

جس کے باعث پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ایک کروڑ 48لاکھ گانٹھ سے کم ہوکر صرف 55لاکھ گانٹھ تک محدود ہے لیکن اس کے باوجود مقامی کاٹن جنرز اپنے روئی کے ذخائر فروخت کرنے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ شوگرملز مالکان اپنے گنے کے کاشتکاروں کوکھاد،زرعی ادویات اورزرعی آلات کے نام پر ہر سال اربوں روپے مالیت کے قرضوں کی سہولت دے رہے ہیں، جبکہ رواں سال گنے کی قیمتیں کم از کم 25 فیصد اضافے کے بعد اب 500 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہیں،جس میں مزیداضافے کے بھی اطلاعات ہیں۔

ان عوامل کے باعث خدشہ ہے کہ کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران ملک بھر میں گنے کی کاشت میں اضافہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی کاشت میں کپاس کی کے باعث گنے کی

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ