ہتھیار ڈالنے پر حماس کو معافی مل سکتی ہے، امریکا کے پاس مربوط منصوبہ موجود ہے، rpwrT
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر
الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن کے مطابق، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔
حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس نے نئی قیادت کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کردیں
ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔
اسی دوران ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے حماس کے اہلکاروں سے انقرہ میں ملاقات کی اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور انسانی حالات پر بات کی، اور کہا کہ ترکی فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا حماس غزہ ہتھیار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ہتھیار ہتھیار ڈالنے حماس کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔