Islam Times:
2026-07-24@03:39:24 GMT

مزاحمت ہمارا بنیادی حق ہے اس پر بات نہیں ہو سکتی، حماس

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

مزاحمت ہمارا بنیادی حق ہے اس پر بات نہیں ہو سکتی، حماس

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ صیہونی غاصبوں کو مزاحمت کے ہتھیاروں پر سوال اٹھانے سے پہلے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کرنے کی ضرورت پر توجہ دیں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک رہنما نے فلسطینی عوام کے لیے مزاحمت کا حق محفوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ قومی فیصلہ ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق غزہ کی پٹی میں آخری صہیونی فوجی کی لاش کی دریافت اور شناخت کے بعد حماس کے ایک سینیئر رہنما سہیل الہندی نے گزشتہ رات اپنے بیان میں کہا ہے  کہ آخری صہیونی قیدی کی لاش کی دریافت کے ساتھ ہی قابضین کی جانب سے کراسنگ نہ کھولنے کے بہانے اور غزہ کی پٹی کو غائب کرنے سے انسانی جانوں کے ضیاع کو روک دیا گیا ہے۔ ایک اخباری بیان میں الہندی نے جنگ بندی معاہدے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے حماس کے مکمل عزم پر تاکید کی اور کہا کہ اب تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ صیہونی غاصبوں کو مزاحمت کے ہتھیاروں پر سوال اٹھانے سے پہلے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کرنے کی ضرورت پر توجہ دیں اور مزاحمت تمام لوگوں کا حق ہے۔   انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک طویل مدتی جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں، لیکن مزاحمت کا ہمارا حق ناقابل مذاکرات ہے۔ مزاحمتی ہتھیاروں کا فیصلہ ایک قومی فیصلہ ہے جو حماس اور تمام فلسطینی گروپوں کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔ حماس کے رہنما کے یہ ریمارکس اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے گزشتہ رات اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ غزہ میں واحد باقی رہ جانے والے اسرائیلی قیدی رون گویلی کی لاش کی شناخت کر کے واپس کر دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حماس کے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش