غزہ سے 843 دن بعد آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی مل گئیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی پولیس افسر ماسٹر سارجنٹ 24 سالہ رَن گویلی کی باقیات بھی مل گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کو پولیس افسر کی باقیات غزہ شہر کے ایک قبرستان سے ملی تھیں جسے اسرائیل لایا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر غزہ سٹی کے مشرقی حصے میں ایک مسلم قبرستان میں تلاش شروع کی گئی تھی۔
کئی روز کی کھدائی اور فرانزک جانچ کے بعد دانتوں کے ریکارڈ، فنگرپرنٹس اور دیگر ٹیسٹوں سے رن گویلی کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔
رن گویلی اُن 251 افراد میں سے آخری تھے جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے حملے کے بعد یرغمال بنایا تھا۔ اس طرح 843 دن بعد اب غزہ میں کوئی اسرائیلی یرغمالی باقی نہیں رہا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ رَن گویلی 7 اکتوبر کو زخمی کندھے کے باوجود یونیفارم پہن کر موٹر سائیکل پر کیبوتز الومیم پہنچے جہاں انہوں نے گھنٹوں حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور مارے گئے۔ بعد ازاں ان کی لاش غزہ منتقل کیے جانے کی تصدیق ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج کے بقول انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران ایک گرفتار فلسطینی اسلامی جہاد کارکن نے باقیات سے متعلق اپم معلومات فراہم کی تھیں۔
جس کے بعد قبرستان میں درجنوں اہلکاروں اور فرانزک ماہرین جن میں 20 ڈینٹسٹ بھی شامل تھے، نے سیکڑوں قبروں کی کھدائی کی تھی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ رن گویلی کی باقیات کی تصدیق ہونے کے بعد قبروں سے نکالی گئی دیگر لاشوں کو احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے تناظر میں ہوئی جس کے تحت زندہ اور فوت شدہ یرغمالیوں کی واپسی طے تھی۔
حماس نے کہا کہ لاش کی واپسی جنگ بندی کی پاسداری کا ثبوت ہے جبکہ نیتن یاہو نے زور دیا کہ اگلا مرحلہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی عسکریت کا خاتمہ ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق رن گویلی کی باقیات کی واپسی کے بعد جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ کی وزارتِ صحت کے حوالے کم از کم 15 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کی باقیات کے بعد
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔