پاکستان کے ہر چار میں سے ایک ضلع میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے زائد ہے،تجزیاتی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد(آ ئی این پی )پاکستان کے ہر چار میں سے ایک ضلع میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے زائد ہے۔یہ بات پاپولیشن کونسل کے اعدادوشمار پر فافن کی جانب سے جاری تجزیاتی رپورٹ میں کہی گئی ۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے مجموعی طورپر 129 اضلاع میں سے 36 اضلاع شدید بیروزگاری کا شکارہیں،بلوچستان کا ضلع پنجگور 36 فیصد بے روزگاری کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے، جبکہ سب سے کم بے روزگاری کا تناسب کراچی سنٹرل میں صرف 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔فافن رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 31 اضلاع میں بے روزگاری کی شرح 12.
آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کے صحافیوں کو ورلڈکپ کی کوریج سے بھی روک دیا
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے کسی بھی ضلع میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے تجاوزنہیں کرتی،پنجاب میں گجرات سب سے کم بے روزگاری والا ضلع ہے جہاں یہ شرح 6.8 فیصد ہے،جبکہ مظفرگڑھ میں بے روز گار افراد کا تناسب 17.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے مجموعی طورپر 129 اضلاع میں سے 36 اضلاع شدید بیروزگاری کا شکارہیں،بلوچستان کا ضلع پنجگور 36 فیصد بے روزگاری کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے، جبکہ سب سے کم بے روزگاری کا تناسب کراچی سنٹرل میں صرف 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔