وفاقی حکومت کی جانب سے جی بی کو 14 ارب 30 کروڑ روپے اگلے ہفتے جاری کرانے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ذرائع پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق بقیہ 65 فیصد ریلیز جاری ہونے سے ٹارگٹڈ 596 منصوبوں کی بروقت تکمیل کے امکانات روشن ہونگے۔ ٹھیکیداروں کو بقایا جات کی ادائیگی بھی ہو سکے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025- 26ء کا بقیہ 65 فیصد ریلیز اگلے ہفتے جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ ریلیز کی پہلی 28 فیصد قسط جو کہ 6 ارب 16 کروڑ روپے اور دوسری قسط ایک ارب 54 کروڑ روپے پہلے ہی جاری ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بقیہ 65 فیصد 14 ارب 30 کروڑ روپے یکمشت جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے۔ واضح رہے ماضی میں ریلیز سہ ماہی اقساط میں جاری کی جاتی تھی مگر وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26ء ریلیز ششماہی یعنی دو اقساط میں جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر ششماہی کے بجائے اب ریلیز تین اقساط پر مشتمل ہو گئی ہے۔ ذرائع پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق بقیہ 65 فیصد ریلیز جاری ہونے سے ٹارگٹڈ 596 منصوبوں کی بروقت تکمیل کے امکانات روشن ہونگے۔ ٹھیکیداروں کو بقایا جات کی ادائیگی بھی ہو سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت بقیہ 65 فیصد کروڑ روپے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔