ویب ڈیسک: سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔

 وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں۔

 سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔

انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا

 سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کردی گئی، سب کمیٹی میں صوبائی وزراء؛ شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار شامل ہیں۔

 سب کمیٹی کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی، سب کمیٹی کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی اور لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے

 سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لئے معاوضہ کی منظوری بھی دی،  سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

 وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔

 کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلا سود قرضہ فراہم کرنے کی منظوری دی، مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ قرضہ دکانداروں کے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، ایک کروڑ روپے پر واجب الادا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔

نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل: اسٹیٹ بینک

 تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی سہولت فراہم کی جائے گی،  وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: متاثرہ دکانداروں کو سانحہ گل پلازہ سندھ کابینہ نے ایک کروڑ روپے مراد علی شاہ کی منظوری سب کمیٹی سندھ کا کے لیے کو ایک

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن