چینی ماہرین نے منفرد رائفل بردار ڈرون بنا لیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ووہان گائیڈ انفراریڈ نے چینی فوج کے ادارے آرمی اسپیشل آپریشنز اکیڈمی کے ماہرین کے تعاون سے ایک جدید اور منفرد رائفل بردار ڈرون تیار کر لیا ہے۔
یہ ڈرون فضا میں پرواز کے دوران 100 سے 150 میٹر کے فاصلے پر موجود ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں وہی معیاری رائفل نصب کی جا سکتی ہے جو اس وقت چینی افواج کے زیرِ استعمال ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں تعینات دشمن فوجیوں کو نشانہ بنانا ہے، تاکہ چینی فوجیوں کی جان کو لاحق خطرات کم سے کم ہوں۔
گزشتہ چند برسوں میں چینی کمپنیاں ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کر چکی ہیں اور ان کے کئی سویلین ڈرون ماڈلز عالمی سطح پر مقبول ہو چکے ہیں۔ جرنل آف گن لانچ اینڈ کنٹرول کے دسمبر کے شمارے کے مطابق اس رائفل بردار ڈرون کی تیاری میں آرمی اسپیشل آپریشنز اکیڈمی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
آزمائشی مرحلے کے دوران ڈرون نے زمین سے دس میٹر کی بلندی پر رہتے ہوئے 100 میٹر دور انسانی قد کے ہدف پر 20 الگ الگ گولیاں فائر کیں، جن میں سے تمام نشانے پر لگیں۔ ان میں سے 10 گولیاں صرف 11 سینٹی میٹر کے دائرے کے اندر لگی تھیں، جو اس کی غیرمعمولی درستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔