نان فائلر کے اسلحہ لائسنس فوری منسوخ کیے جائیں، سینیٹر فیصل
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر فیصل نے کہا ہے کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ کیسے اسلحہ لائسنس بنوا رہے ہیں؟ اسلحہ اس کے پاس ہو جو ٹیکس جمع کرواتا ہو۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل کی زیرصدارت ہوا جس میں اسلحہ لائسنس پر بحث ہوئی۔
اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نان فائلرز کو 33 ہزار اور فائلرز کو صرف 3 ہزار لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو فائلر نہیں ہے ان کے لائسنس فوری منسوخ کیے جائیں، اسلحہ لائسنس جاری ضرور کریں لیکن وہ ٹیکس تو ادا کریں۔ 32 ہزار نان فائلر کو لائسنس جاری ہوئے ہیں۔
پنجاب میں شہریوں کی سہولت کے لیے انفرادی اسلحہ لائسنس میں ترمیم و تبدیلی کا عمل آن لائن کردیا گیا۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بہت زیادہ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، ہم نے پالیسی سخت کی ہے اب چند ہزار لائسنس جاری ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 90 فیصد لائسنس بنانے بند کردیے ہیں، یہ وزارت داخلہ ہے کوئی لائسنسنگ برانچ نہیں ہے۔
اس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل نے کہا کہ جو اسلحہ وارداتوں میں استعمال ہوا ہے اس کو فوری منسوخ کریں، اس پر طلال چوہدری نے کہا کہ فوری منسوخ کرنا مناسب نہیں ہے اس کو وقت دے دیتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر ٹیکس جمع نہیں کروایا گیا تو لائسنس منسوخ کر دیں گے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عرفان اللّٰہ خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ممبران پارلیمنٹ سے متعلق 11 کیس تھے، 8 میں برآمدگی ہوچکی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ کے پاس 1 لاکھ 57 ہزار شکایات آئی ہیں لیکن مقدمات کم درج ہوئے، ہمیں صوبے سے متعلق بتایا جائے کہ کتنی شکایات ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس سینیٹر فیصل لائسنس جاری فوری منسوخ نے کہا کہ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔