محکمہ صحت کا نجی بلڈ بینکس کی رجسٹریشن اور لائسنس فیسوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ/ واجد حسین انصاری) محکمہ صحت سندھ کے ماتحت سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے نجی بلڈ بینکس کی رجسٹریشن اور لائسنس فیسوں میں بھاری اضافہ کر دیا ہے، جسے طبی و سماجی حلقوں کی جانب سے مریض دشمن پالیسی قرار دیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت بلڈ بینکس کی رجسٹریشن فیس بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ لائسنس فیس میں اضافہ کر کے ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لائسنس کی تجدید فیس 50 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جبکہ تاخیر کی صورت میں ماہانہ جرمانہ الگ سے وصول کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت شہر میں تقریبا 150 سے زائد بلڈ بینکس موجود ہیں جہاں سے مریضوں کے عزیز و اقارب بلڈ حاصل کرتے ہیں، طبی ماہرین اور شہریوں کے مطابق اضافی مالی بوجھ نجی بلڈ بینکس بالآخر مریضوں سے ہی وصول کریں گے، جس کے نتیجے میں خون جیسی بنیادی طبی ضرورت مزید مہنگی ہو جائے گی۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے، ایسے فیصلے عوام دشمن اور مریض مخالف ہیں۔ ان کے مطابق اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر تھیلیسیمیا، ڈائیلاسز، کینسر اور ایمرجنسی کے مریض ہوں گے، جن کیلیے خون کی بروقت فراہمی زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتی ہے۔ طبی وسماجی حلقوں نے محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کی جائے تاکہ مریضوں کو مزید مالی مشکلات سے بچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔