ایپل فروری میں سری کا جدید ورژن متعارف کرائے گا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ایپل کی جانب سے فروری کے وسط میں سری کے نئے ورژن پیش متعارف کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یاہو اور آؤٹ لک کو گوگل کی سپورٹ ختم، صارفین اپنا انتظام کرلیں
بلومبرگ کے مارک گورمن کے مطابق ایپل سری میں گوگل کے جیمینی اے آئی ماڈلز کو شامل کرے گا جو جون 2024 میں کیے گئے اعلانات کے مطابق صارف کے ذاتی ڈیٹا اور آن اسکرین مواد تک رسائی کے ذریعے مختلف کام مکمل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔
فروری میں آنے والا یہ اپڈیٹ جون میں ہونے والی ایپل کی ورلڈ وائیڈ ڈویلپرز کانفرنس میں بڑے اپڈیٹ کے لیے پیش خیمہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق جدید سری مزید بات چیت پر مبنی ہوگا جس کا انداز مشہور اے آئی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی کی طرح ہوگا اور یہ ممکنہ طور پر گوگل کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر بھی چل سکے گا۔
مزید پڑھیے: گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایپل کو اپنی اے آئی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں داخلی مشکلات کا سامنا ہے۔
سنہ 2025 میں کمپنی کی اے آئی ٹیم اپنی توقعات پر پورا نہ اتر سکی تھی جس کے بعد گوگل کے ساتھ حالیہ تعاون اور اے آئی چیف جان جیانانڈریا کے رخصت ہونے کی خبریں آئیں۔
مزید پڑھیں: گوگل جیمنی میں ’پرسنل انٹیلیجنس‘ فیچر متعارف، ایپل کے لیے نیا چیلنج
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیمینی پاورڈ سری ایپل کے اے آئی منصوبوں میں ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے جس سے وائس اسسٹنٹس اور جدید اے آئی ڈریوین ڈیجیٹل ہیلپرز کے درمیان فرق کم ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سری کا نیا ورژن گوگل گوگل سری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سری کا نیا ورژن گوگل گوگل سری اے آئی
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔