یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ ہوگا، شہر مزید خاموش نہیں رہے گا، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی :امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ اب کراچی مزید خاموش نہیں رہے گا اور ساڑھے تین کروڑ عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق، بنیادی سہولیات، جینے کا حق اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔
ماڈل پارک کورنگی نمبر 5 میں لانڈھی ٹاؤن کے تحت مسلسل تیسرے سال منعقد ہونے والی پھولوں کی نمائش کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ایک عظیم الشان اور تاریخی ”جینے دو کراچی مارچ“ منعقد کیا جائے گا، جس میں خواتین سمیت لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ 18 برسوں پر محیط بدترین دورِ حکمرانی، بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن نے کراچی کے شہری اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اطلاعات ہیں کہ شہر میں تقریباً 85 ہزار عمارتیں ایسی ہیں جن کے پاس این او سی موجود نہیں، جو کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے محدود وسائل اور اختیارات کی کمی کے باوجود دن رات عوامی خدمت میں مصروف ہیں، جماعت اسلامی اس شہر کے ساتھ ناانصافیوں، حق تلفیوں اور اہل کراچی پر ہونے والے ظلم کے خلاف پہلے بھی میدان میں موجود تھی اور آج بھی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمران جماعتیں کب تک کراچی کے عوام سے لاشیں اٹھواتی رہیں گی؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جو پورے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے اور صوبے کو 95 فیصد بجٹ فراہم کرتا ہے، وہاں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی سربراہی میں کرائی جائیں، مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو سخت سزا دی جائے، متاثرین کو متبادل جگہ اور لواحقین کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے۔
انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ عوام کے لیے صرف 400 بسیں چلا کر ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کا دعویٰ کرنا سراسر نااہلی ہے، جبکہ خواتین اور بزرگ چنگ چی رکشوں میں سفر پر مجبور ہیں۔
تقریب کے دوران سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا اور مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ واضح رہے کہ پھولوں کی نمائش کا افتتاح پہلے کیا جانا تھا تاہم سانحہ گل پلازہ کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ افتتاحی تقریب سے ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبدالجمیل خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
ویب ڈیسک
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔