امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا ہے، اسے صاف کرتا ہے اور پھر یورپی ممالک وہی تیل مصنوعات خریدتے ہیں، اس سے روس یوکرین جنگ کی مالی امداد ہو رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) نے طویل عرصے سے جاری آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) مذاکرات مکمل کر لئے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ نے ہندوستان پر خاص طور پر روس سے تیل خریدنے کے سخت الزامات عائد کئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) مذاکرات 2007ء میں شروع ہوئے تھے۔ اب فریقین نے کہا ہے کہ معاہدہ "قانونی جانچ پڑتال" کے لئے تیار ہے۔ اس کا باقاعدہ اعلان 27 جنوری کو کیا جا سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اسے "مدر آف آل ڈیلز" (تمام معاہدوں کی ماں) کہا ہے۔

اس دوران امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا ہے، اسے صاف کرتا ہے اور پھر یورپی ممالک وہی تیل مصنوعات خریدتے ہیں۔ ان کے بقول اس سے روس یوکرین جنگ کی مالی امداد ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جسے بعد میں بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے کہا کہ اس نے روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لئے یورپ سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یورپ خود کے خلاف چل رہی جنگ کو ہی پیسہ دے رہی ہے۔

امریکہ نے ہندوستان پر کُل 50 فیصد محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ اس میں سے 25 فیصد خاص طور پر روس سے تیل کی خریداری کی وجہ سے ہے۔ یہ فیصلہ اگست 2025ء میں لیا گیا تھا۔ اس سب کے درمیان ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کے 77ویں یوم جمہوریہ پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم جمہوریتیں ہیں اور ان کے تعلقات تاریخی ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے مبینہ طور پر کہا کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی امریکہ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اس سے انتخابی نقصان اور سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی سخت تجارتی پالیسی کی وجہ سے کینیڈا بھی اپنے تعلقات کی تجدید کر رہا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا ہندوستان کو ایک اہم اسٹریٹجک اور تجارتی شراکت دار مانتا ہے۔ امریکہ نے کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی یونین اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے سے ہندوستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس سے ہندوستان کو توانائی کی حفاظت، نئی منڈیوں اور امریکی ٹیرف کے دباؤ سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہندوستان اور یورپی یونین نے ہندوستان کہ ہندوستان امریکہ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل