ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان "آزاد تجارتی معاہدے" سے امریکہ برہم
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا ہے، اسے صاف کرتا ہے اور پھر یورپی ممالک وہی تیل مصنوعات خریدتے ہیں، اس سے روس یوکرین جنگ کی مالی امداد ہو رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) نے طویل عرصے سے جاری آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) مذاکرات مکمل کر لئے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ نے ہندوستان پر خاص طور پر روس سے تیل خریدنے کے سخت الزامات عائد کئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) مذاکرات 2007ء میں شروع ہوئے تھے۔ اب فریقین نے کہا ہے کہ معاہدہ "قانونی جانچ پڑتال" کے لئے تیار ہے۔ اس کا باقاعدہ اعلان 27 جنوری کو کیا جا سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اسے "مدر آف آل ڈیلز" (تمام معاہدوں کی ماں) کہا ہے۔
اس دوران امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا ہے، اسے صاف کرتا ہے اور پھر یورپی ممالک وہی تیل مصنوعات خریدتے ہیں۔ ان کے بقول اس سے روس یوکرین جنگ کی مالی امداد ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جسے بعد میں بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے کہا کہ اس نے روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لئے یورپ سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یورپ خود کے خلاف چل رہی جنگ کو ہی پیسہ دے رہی ہے۔
امریکہ نے ہندوستان پر کُل 50 فیصد محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ اس میں سے 25 فیصد خاص طور پر روس سے تیل کی خریداری کی وجہ سے ہے۔ یہ فیصلہ اگست 2025ء میں لیا گیا تھا۔ اس سب کے درمیان ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کے 77ویں یوم جمہوریہ پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم جمہوریتیں ہیں اور ان کے تعلقات تاریخی ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے مبینہ طور پر کہا کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی امریکہ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اس سے انتخابی نقصان اور سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی سخت تجارتی پالیسی کی وجہ سے کینیڈا بھی اپنے تعلقات کی تجدید کر رہا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا ہندوستان کو ایک اہم اسٹریٹجک اور تجارتی شراکت دار مانتا ہے۔ امریکہ نے کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی یونین اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے سے ہندوستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس سے ہندوستان کو توانائی کی حفاظت، نئی منڈیوں اور امریکی ٹیرف کے دباؤ سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہندوستان اور یورپی یونین نے ہندوستان کہ ہندوستان امریکہ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔