کشمیر کی تحریکِ آزادی پوری دنیا کے امن کی چابی ہے، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے تیار ہیں،ہمارے قیدی مجاہدوں سے ہندوستان کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ راولپنڈی میں عوامی رابطہ مہم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو قتل کیا گیا، لاکھوں عورتوں کو بیوہ اور ان کی عزتوں کو تار تار کیا گیا، یہ ظلم دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آئے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی پوری دنیا کے امن کی چابی ہے، ظلم کے سارے ریکارڈ بھارتی آرمی نے توڑ دیے ہیں، بھارتی اسٹیبلشمنٹ سن لے، یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا تو دنیا کے نقشے پر ہندوستان نہیں رہے گا۔ حریت رہنما کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پہلگام سمیت بھارت کی دہشتگردی اب مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں ہے، را نے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کی ہے، بھارت اتنا ڈرپوک ہے کہ کھل کر سامنے نہیں آ سکتا، مودی اور ڈوول کو چیلنج ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے چوک چوراہے پر کھڑے ہو کر دیکھو تمہارا جو استقبال ہونا ہے وہ یاد رکھو گے۔
انہوں نے کہا کہ یسین ملک کو عدالت نے دہشتگردی کے جھوٹے کیس میں سزا سنائی، میرا شوہر غازی ہے، وہ تمنا کر رہا ہے کہ اسے شہادت کی موت ملے۔ مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے تیار ہیں، ہمارے قیدی مجاہدوں سے ہندوستان کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ مشعال ملک
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔