پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل کریئٹر فرح یوسف نے اپنے شوہر اقرار الحسن کے ساتھ تعلق اور طلاق کی افواہوں پر اپنا موقف بیان کردیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ 

فرح یوسف نے بطور صحافی اپنے کریئر کا آغاز 2007 میں نجی ٹی سے بطور نیوز اینکر کیا جس کے وہ پی ٹی وی ہوم سمیت دیگر نجی ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہی ہیں۔

آج کل وہ اپنا یوٹیب چینل چلارہی ہیں جہاں وہ مختلف موضوعات پر وی لاگز اور پوڈ کاسٹس کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ 

فرح یوسف، معروف اینکر وسیاست دان اقرارالحسن کی دوسری اہلیہ ہیں، جب کہ اقرارالحسن کی پہلی شادی قرۃ العین سے ہوئی جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے جب کہ انہوں نے تیسری شادی عروسہ خان سے کی۔  

        View this post on Instagram                      

ریحان طارق کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرح یوسف نے اقرار الحسن سے اپنے تعلق کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ہم زیادہ قریب نہیں تھے کیونکہ وہ میرے سینئر تھے، اس لیے احترام کے ساتھ ایک حد تک جھجھک اور خوف بھی تھا لیکن آہستہ آہستہ ہم اچھے دوست بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ میں فطری طور پر ایک شرمیلی انسان ہوں اور کسی سے زیادہ باتیں شیئر نہیں کرتی، حتیٰ کہ اقرار سے بھی نہیں کرتی اور یہی میری عادت ہے کہ میں ہر بات سب کے ساتھ شیئر نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں

’پہلاج اپنی 3 ماؤں کیساتھ‘، اقرار الحسن کی نئی تصاویر وائرل

اقرار الحسن کی تیسری بیوی کی پہلی اہلیہ سے محبت پر دلچسپ گفتگو وائرل

        View this post on Instagram                      

فرح یوسف کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم پہلے سے زیادہ قریب ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت کمفرٹیبل ہیں جب کہ میں اقرار کو چھیڑتی بھی ہوں، اس کے لیے کھانا بناتی ہوں، ہم ساتھ فلمیں دیکھتے ہیں اور جب ماضی کی یادیں تازہ ہوں تو لانگ ڈرائیوز پر بھی جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ایک خوبصورت رشتہ ہے اور ہر رشتے میں دوستی بہت ضروری ہوتی ہے، میاں بیوی کے رشتے میں سب سے پہلے احترام، پھر دوستی اور اس کے بعد محبت ہونی چاہیے۔

        View this post on Instagram                      

علیحدگی کی افواہوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی میں ٹی وی پر یوٹیوب سرچ کرتی ہوں تو اس طرح کی افواہیں سامنے آتی ہیں اور ہماری علیحدگی کے بارے میں بے شمار وی لاگز بنے ہوئے ہیں، جن کے کچھ سرخیاں اتنی نامناسب ہوتی ہیں کہ میں انہیں دہرانا بھی نہیں چاہتی۔

فرح یوسف نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ اقرارالحسن نے مجھے چھوڑ دیا ہے، اگر آپ کو ویوز چاہییں تو بہتر الفاظ استعمال کریں لیکن یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ نہیں، بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔

مزید کہا کہ میں نے منیب بٹ کے بارے میں بھی خبریں پڑھیں، جہاں ان کے برائیڈل فوٹو شوٹ کے بعد ان پر دوسری شادی کا الزام لگا دیا گیا اور اسی طرح سینیئر شخصیات کی وفات کی جھوٹی خبریں بھی پھیلائی جاتی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقرار الحسن فرح یوسف نے الحسن کی کے ساتھ کہا کہ کہ میں

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل