فرح یوسف کا اقرارالحسن کے ساتھ تعلق اور علیحدگی کی افواہوں پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل کریئٹر فرح یوسف نے اپنے شوہر اقرار الحسن کے ساتھ تعلق اور طلاق کی افواہوں پر اپنا موقف بیان کردیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
فرح یوسف نے بطور صحافی اپنے کریئر کا آغاز 2007 میں نجی ٹی سے بطور نیوز اینکر کیا جس کے وہ پی ٹی وی ہوم سمیت دیگر نجی ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہی ہیں۔
آج کل وہ اپنا یوٹیب چینل چلارہی ہیں جہاں وہ مختلف موضوعات پر وی لاگز اور پوڈ کاسٹس کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
فرح یوسف، معروف اینکر وسیاست دان اقرارالحسن کی دوسری اہلیہ ہیں، جب کہ اقرارالحسن کی پہلی شادی قرۃ العین سے ہوئی جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے جب کہ انہوں نے تیسری شادی عروسہ خان سے کی۔
View this post on Instagramریحان طارق کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرح یوسف نے اقرار الحسن سے اپنے تعلق کے بارے میں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ہم زیادہ قریب نہیں تھے کیونکہ وہ میرے سینئر تھے، اس لیے احترام کے ساتھ ایک حد تک جھجھک اور خوف بھی تھا لیکن آہستہ آہستہ ہم اچھے دوست بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ میں فطری طور پر ایک شرمیلی انسان ہوں اور کسی سے زیادہ باتیں شیئر نہیں کرتی، حتیٰ کہ اقرار سے بھی نہیں کرتی اور یہی میری عادت ہے کہ میں ہر بات سب کے ساتھ شیئر نہیں کرتی۔
مزید پڑھیں’پہلاج اپنی 3 ماؤں کیساتھ‘، اقرار الحسن کی نئی تصاویر وائرل
اقرار الحسن کی تیسری بیوی کی پہلی اہلیہ سے محبت پر دلچسپ گفتگو وائرل
View this post on Instagramفرح یوسف کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم پہلے سے زیادہ قریب ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت کمفرٹیبل ہیں جب کہ میں اقرار کو چھیڑتی بھی ہوں، اس کے لیے کھانا بناتی ہوں، ہم ساتھ فلمیں دیکھتے ہیں اور جب ماضی کی یادیں تازہ ہوں تو لانگ ڈرائیوز پر بھی جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ایک خوبصورت رشتہ ہے اور ہر رشتے میں دوستی بہت ضروری ہوتی ہے، میاں بیوی کے رشتے میں سب سے پہلے احترام، پھر دوستی اور اس کے بعد محبت ہونی چاہیے۔
View this post on Instagramعلیحدگی کی افواہوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی میں ٹی وی پر یوٹیوب سرچ کرتی ہوں تو اس طرح کی افواہیں سامنے آتی ہیں اور ہماری علیحدگی کے بارے میں بے شمار وی لاگز بنے ہوئے ہیں، جن کے کچھ سرخیاں اتنی نامناسب ہوتی ہیں کہ میں انہیں دہرانا بھی نہیں چاہتی۔
فرح یوسف نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ اقرارالحسن نے مجھے چھوڑ دیا ہے، اگر آپ کو ویوز چاہییں تو بہتر الفاظ استعمال کریں لیکن یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ نہیں، بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔
مزید کہا کہ میں نے منیب بٹ کے بارے میں بھی خبریں پڑھیں، جہاں ان کے برائیڈل فوٹو شوٹ کے بعد ان پر دوسری شادی کا الزام لگا دیا گیا اور اسی طرح سینیئر شخصیات کی وفات کی جھوٹی خبریں بھی پھیلائی جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقرار الحسن فرح یوسف نے الحسن کی کے ساتھ کہا کہ کہ میں
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔