اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور لاہور لندن سے زیادہ محفوظ شہر ہے۔

یہ ریمارکس انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران دیے، جہاں گاڑیوں کے کالے شیشوں سے متعلق قوانین اور جرمانوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ بیرونِ ملک کالے شیشوں کے استعمال کے لیے اضافی فیس جمع کرائی جاتی ہے جب کہ پاکستان میں واضح پالیسی کے بغیر شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی ہدایت کے باوجود پالیسی بننے سے قبل لوگوں پر 50 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جو تشویشناک ہے۔

سینیٹر طلال چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرے، کیونکہ اس وقت وفاق اور صوبوں میں کوئی جامع پالیسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسائز سے متعلق ایک قانون موجود ہے جس کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کالے شیشوں کے لیے سرٹیفکیٹس جاری ہوتے تھے لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ ایک فیشن بن چکا ہے۔

اجلاس میں ممبر کمیٹی ثمینہ ممتاز نے سیکورٹی خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کے سنگین جرائم اور سیکورٹی خدشات کے واقعات کا حوالہ دیا۔

اس پر سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ جرائم دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور پاکستان کو عالمی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے، جس پر کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی مختلف آرا پیش کیں اور ملک میں سیکورٹی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے۔ اجلاس میں اس معاملے پر مزید غور اور پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی