Islam Times:
2026-06-03@00:06:46 GMT

کینیڈا اور یورپی ممالک کا امریکہ کے خلاف اتحاد

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

کینیڈا اور یورپی ممالک کا امریکہ کے خلاف اتحاد

اسلام ٹائمز: کینیڈا اور یورپی ممالک کی ٹرمپ کی سخت گیر اور بعض اوقات ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت نہ صرف جغرافیائی سیاست بلکہ مغربی شناخت کی نئی تعریف سازی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب اتحاد صرف فوجی معاہدوں پر نہیں بلکہ اصولوں، بیانیوں اور عالمی نظام کے مستقبل پر بھی قائم ہوتے ہیں۔ اس لیے آنے والے برسوں میں مغربی دنیا کے اندر نئی صف بندی کسی بڑی عالمی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہی عمل دنیا میں ایک نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد بھی رکھے گا کہ جہاں امریکی بالا دستی کا خاتمہ ہوگا۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

امریکی صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی دنیا میں افراتفری پھیلانا شروع کر دی ہے۔ ٹرمپ کے اس رویہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ طاقت کا مرکز و محور مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے، تاہم امریکہ نہیں چاہتا کہ دنیا سے اس کی بالادستی کا جزوی یا مکمل خاتمہ ہو۔ امریکی بالادستی کی بقاء کے لئے امریکی صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کی مدد سے مسلسل دنیا میں انارکی پھیلانے کا ایجنڈا سیٹ کر رکھا ہے۔ جہاں ٹرمپ نے مشرقی دنیا کو الجھائو کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے، وہاں ساتھ ساتھ یورپی ممالک کو بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو کو اغوا کروانے کے بعد ایران میں دہشت گردوں کی حمایت کی اور اب گرین لینڈ پر قبضہ کی بات کی ہے۔ گرین لینڈ پر قبضہ کی بات نے پورے یورپ کو بے چین کر دیا ہے۔ صرف یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ کینیڈا نے بھی امریکی صدر کے اس اعلان کی مذمت کی ہے۔

امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے نہ صرف واشنگٹن کی داخلی پالیسیوں بلکہ عالمی سفارت کاری کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ خارجہ پالیسی، تجارتی دباؤ، امیگریشن سے متعلق سخت گیر اقدامات اور عالمی اداروں سے لاتعلقی کے رجحان نے مغربی دنیا میں قابلِ ذکر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسی تناظر میں کینیڈا اور یورپی ممالک ایک نئے سفارتی اور سیاسی محور کی شکل میں سامنے آرہے ہیں، جو ٹرمپ کی غیر معمولی اور یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے میں توازن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ درج بالا سطور میں بیان کردہ کینڈین وزیراعظم کا بیان بھی اسی سلسلہ کی کڑی میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کی بنیاد "امریکہ سب سے پہلے" صرف نعرہ نہیں بلکہ عالمی تعلقات کی ایک نئی تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے تحت امریکہ اپنے اتحادیوں سے روایتی تعاون اور اشتراک کم جبکہ مالی و اسٹریٹجک بوجھ زیادہ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یعنی اب تک جو کچھ دیکھا جا رہا ہے، اس میں یہی بات سامنے آرہی ہے کہ ٹرمپ اپنے اتحادیوں سے امریکہ کو پیسے دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عرب ممالک کے دورہ کے دوران بھی انہوں نے ایسی باتیں کی تھیں کہ ان کے پاس بہت پیسہ ہے اور ہم پیسہ لینا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کی یہ پالیسی یورپی یونین کے لیے ایک تلخ حقیقت بنی، کیونکہ نیٹو، تجارت، موسمیاتی معاہدوں اور عالمی مالیاتی اداروں میں واشنگٹن کا کردار بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھر خاص طور پر یوکرین جنگ میں بھی ٹرمپ نے یورپ کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اب یوکرین کی مالی اور مسلح مدد نہیں کرے گا بلکہ یورپ کو اس بارے میں امریکہ کو پیسہ دینا ہوگا۔ جب واشنگٹن نے ان ستونوں کو کمزور کرنا شروع کیا تو یورپ کو اپنے طویل المدتی سکیورٹی اور اقتصادی مفادات کے بارے میں نئی حکمت عملی ترتیب دینا پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کینیڈا سمیت یورپی ممالک کی حکومتیں ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں کا شکار ہو رہی ہیں۔

ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے مقابلہ میں کینیڈا نے ابھی تک کوئی بھی جارحانہ موقف اور انداز نہیں اپنایا ہے۔ کینیڈا نے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے ایک نرم لیکن اصولی مزاحمتی کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ جارحانہ امیگریشن پالیسیاں ہوں، میکسیکو بارڈر کی سختیاں، مسلم بین ہو یا تجارتی جنگیں ہوں، ان سب معاملات میں اوٹاوا نے عالمی انسانی حقوق، کثیرالجہتی سفارت کاری اور اقتصادی کھلے پن کے حق میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو اور جی 7 جیسے پلیٹ فارمز پر کینیڈا نے یورپی ممالک کے ساتھ ایک فعال بلاک بنایا ہے، جو امریکی یکطرفہ فیصلوں کے مقابلے میں گفتگو اور اجتماعی حکمت عملی کی وکالت کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے وزیراعظم نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ بڑی طاقت کے پاس بڑی مارکیٹ ہے، بڑی فوجی طاقت ہے، اپنی شرائط پر بات کرنے کی اوقات ہے۔ متوسط طاقتوں کے پاس ایسا کچھ نہیں۔ اگر ہم اکٹھے ہو کر میز پر نہیں بیٹھیں گے تو ہم میز کا مینو بن جائیں گے۔

درحقیقت کنیڈین وزیراعظم کے یہ الفاظ یورپ کی حکومتوں کو ٹرمپ کیخلاف واضح وارننگ ہے کہ اگر اب بھی ہم سب متحد نہیں ہوئے تو پھر کب ہوں گے۔؟ امریکہ ہمیں میز پر رکھے کھانے کے طرح کھا کر ڈکار لے گا۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگوں نے مغرب کی اقتصادی سلامتی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ یورپی اسٹیل اور آٹو سیکٹر پر ٹیرف، کینیڈین المونیم اور زرعی تجارت پر دباؤ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ جن میں یورپ اور کینیڈا کو مشترکہ اقتصادی بلاکنگ اور متبادل تجارتی معاہدوں کی طرف جانا پڑا۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیٹا اور ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے بھی مغرب میں قانون سازی دو مختلف سمتوں میں بڑھ رہی ہے اور امریکہ کارپوریٹ مفادات کی طرف جبکہ یورپ ڈیجیٹل حقوق اورریگولیٹری کنٹرول کی طرف جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں مہاجرین کے مسئلے، اقلیتوں کے حقوق اور عالمی انسانی اداروں سے امریکہ کی بددلی نے مغربی کیمپ کے مابین ایک اخلاقی تقسیم بھی پیدا کی۔

کینیڈا اور یورپی ممالک نے انسانی وقار، مذہبی آزادی، مہاجرین کی قبولیت اور اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی کردار کی حمایت جاری رکھی ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں مغربی اتحاد کا ایک اخلاقی عنصر ابھر کر سامنے آیا، جو ٹرمپ ازم کے مقابلے میں بنیادی اصولوں کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا واقعی یورپ امریکہ کی ان سخت پالیسیوں کے مقابلہ میں متحد ہو جائے گا۔؟ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صورتحال صرف وقتی نہیں بلکہ جاری عالمی طاقت کی از سر نو تقسیم کا حصہ ہے۔ اگر امریکہ طویل مدت کے لیے ٹرمپ اسٹائل یکطرفہ پالیسی پر قائم رہتا ہے تو مغرب کے اندر کینیڈا-یورپ محور مستقبل میں عالمی اداروں، تجارت، ماحولیاتی معاہدوں اور انسانی حقوق کے ڈھانچے کو از سر نو ترتیب دینے میں مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔

جہاں تک یورپی یونین کے ردعمل کی بات ہے تو یورپی یونین کا ردِعمل سادہ نہیں بلکہ تہہ در تہہ ہے۔ ابتدا میں یورپ صرف مزاحمتی سفارت کاری تک محدود تھا، لیکن جیسے جیسے ٹرمپ کے فیصلے عالمی ڈھانچے کو عدم استحکام کی طرف لے جانے لگے، یورپ نے اس بحث کو آگے بڑھایا کہ آیا اتحادی نظام ہمیشہ واشنگٹن کی شرائط کے تحت رہ سکتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ دفاعی خود مختاری، تکنیکی خود انحصاری اور توانائی کے متبادل ذرائع جیسے موضوعات یورپی اسٹریٹجک ایجنڈے کا حصہ بن گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کینیڈا اور یورپی ممالک کی ٹرمپ کی سخت گیر اور بعض اوقات ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت نہ صرف جغرافیائی سیاست بلکہ مغربی شناخت کی نئی تعریف سازی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب اتحاد صرف فوجی معاہدوں پر نہیں بلکہ اصولوں، بیانیوں اور عالمی نظام کے مستقبل پر بھی قائم ہوتے ہیں۔ اس لیے آنے والے برسوں میں مغربی دنیا کے اندر نئی صف بندی کسی بڑی عالمی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہی عمل دنیا میں ایک نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد بھی رکھے گا کہ جہاں امریکی بالا دستی کا خاتمہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ اور عالمی کینیڈا نے دنیا میں کہ عالمی یورپ کو کرنے کی کرتا ہے ٹرمپ کی کی طرف رہی ہے رہا ہے

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد