بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے ہماری مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ یورپی یونین کیساتھ یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ برطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی تکمیل کریگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آج ایک تاریخی معاہدے پر مہر ثبت ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ اسے "مدر آف آل ڈیلز" بھی کہا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور یوروپی یونین مل کر عالمی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اور دنیا کی تقریباً 25 فیصد آبادی پر مشتمل ہے، جو اس شراکت داری کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ہندوستان اور یورپی یونین کے رہنما نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا۔ نریندر مودی نے نوٹ کیا کہ یورپی یونین کے رہنما انتونیو کوسٹا کو لزبن کا گاندھی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مودی نے کہا "ہم نے دو ارب لوگوں کے لئے فری ٹریڈ زون بنایا ہے، جس سے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم اپنی حکمت عملی کو مزید مضبوط کریں گے"۔

نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے اور اس سے استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف تجارتی معاہدہ نہیں ہے۔ نریندر مودی اور یورپی یونین کے دونوں رہنماؤں نے حیدرآباد ہاؤس میں وسیع بات چیت کی۔ دریں اثناء یورپی یونین کے صدر انتونیو کوسٹا نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس سے نئے مواقع کھلیں گے۔ انتونیو لوئس سانتوس دا کوسٹا نے مزید کہا "میں یورپی کونسل کا صدر ہوں، لیکن میں ایک سمندر پار ہندوستانی شہری بھی ہوں، اس لئے جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ میرے لئے ایک خاص معنی رکھتا ہے۔ مجھے گوا سے اپنے تعلق پر بہت فخر ہے، جہاں سے میرے والد کا خاندان آیا تھا اور یورپ اور ہندوستان کا تعلق میرے لئے ذاتی ہے"۔

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا "پیارے وزیر اعظم نریندر مودی، اس خاص موقع پر ہمارا خیرمقدم کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ پیر کو ہمیں یوم جمہوریہ کی تقریبات میں آپ کے مہمان خصوصی بننے کا موقع ملا۔ یہ ہندوستان کی صلاحیتوں اور تنوع کا شاندار مظاہرہ تھا۔ آج ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہم تجارت، سلامتی اور عوام کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں"۔ بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے ہماری مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ برطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی تکمیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کے لئے اس ملک کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔

نریندر مودی نے کہا "یورپی یونین کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے کو بڑا فروغ دے گا۔ آزاد تجارتی معاہدے سے ہر سرمایہ کار اور تاجر کا ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کا اعتماد بڑھے گا"۔ یورپی یونین اور ہندوستان قریبی شراکت دار ہیں جو اقتصادی خوشحالی، قواعد پر مبنی بین الاقوامی ترتیب اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری اس تعلقات کے اہم ستون ہیں۔ منگل کو ہونے والی ای یو۔انڈیا سمٹ میں، توقع ہے کہ دونوں اطراف کے رہنما ایک مشترکہ جامع اسٹریٹجک ایجنڈا اپنائیں گے اور آزاد تجارتی معاہدے کے جاری مذاکرات کے تناظر میں تجارت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ سب سے پہلے 2007ء میں شروع کئے گئے تھے اور 2022ء میں دوبارہ لانچ کیے گئے تھے، پیر کو اختتام پذیر ہوئے۔

آنے والے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ہندوستان اور یورپ نے ایک واضح انتخاب کیا ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری، بات چیت اور کھلے پن کا انتخاب۔ اپنی تکمیلی طاقتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور باہمی طاقت کی تعمیر۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بکھری ہوئی دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ایک اور راستہ ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے تجارتی معاہدہ نے مزید کہا کے درمیان کہا کہ یہ کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل