بھارت و یورپی یونین کا یہ معاہدے مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے، نریندر مودی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے ہماری مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ یورپی یونین کیساتھ یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ برطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی تکمیل کریگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آج ایک تاریخی معاہدے پر مہر ثبت ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ اسے "مدر آف آل ڈیلز" بھی کہا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور یوروپی یونین مل کر عالمی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اور دنیا کی تقریباً 25 فیصد آبادی پر مشتمل ہے، جو اس شراکت داری کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ہندوستان اور یورپی یونین کے رہنما نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا۔ نریندر مودی نے نوٹ کیا کہ یورپی یونین کے رہنما انتونیو کوسٹا کو لزبن کا گاندھی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مودی نے کہا "ہم نے دو ارب لوگوں کے لئے فری ٹریڈ زون بنایا ہے، جس سے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم اپنی حکمت عملی کو مزید مضبوط کریں گے"۔
نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے اور اس سے استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف تجارتی معاہدہ نہیں ہے۔ نریندر مودی اور یورپی یونین کے دونوں رہنماؤں نے حیدرآباد ہاؤس میں وسیع بات چیت کی۔ دریں اثناء یورپی یونین کے صدر انتونیو کوسٹا نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس سے نئے مواقع کھلیں گے۔ انتونیو لوئس سانتوس دا کوسٹا نے مزید کہا "میں یورپی کونسل کا صدر ہوں، لیکن میں ایک سمندر پار ہندوستانی شہری بھی ہوں، اس لئے جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ میرے لئے ایک خاص معنی رکھتا ہے۔ مجھے گوا سے اپنے تعلق پر بہت فخر ہے، جہاں سے میرے والد کا خاندان آیا تھا اور یورپ اور ہندوستان کا تعلق میرے لئے ذاتی ہے"۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا "پیارے وزیر اعظم نریندر مودی، اس خاص موقع پر ہمارا خیرمقدم کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ پیر کو ہمیں یوم جمہوریہ کی تقریبات میں آپ کے مہمان خصوصی بننے کا موقع ملا۔ یہ ہندوستان کی صلاحیتوں اور تنوع کا شاندار مظاہرہ تھا۔ آج ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہم تجارت، سلامتی اور عوام کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں"۔ بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے ہماری مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ برطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی تکمیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کے لئے اس ملک کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔
نریندر مودی نے کہا "یورپی یونین کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے کو بڑا فروغ دے گا۔ آزاد تجارتی معاہدے سے ہر سرمایہ کار اور تاجر کا ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کا اعتماد بڑھے گا"۔ یورپی یونین اور ہندوستان قریبی شراکت دار ہیں جو اقتصادی خوشحالی، قواعد پر مبنی بین الاقوامی ترتیب اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری اس تعلقات کے اہم ستون ہیں۔ منگل کو ہونے والی ای یو۔انڈیا سمٹ میں، توقع ہے کہ دونوں اطراف کے رہنما ایک مشترکہ جامع اسٹریٹجک ایجنڈا اپنائیں گے اور آزاد تجارتی معاہدے کے جاری مذاکرات کے تناظر میں تجارت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ سب سے پہلے 2007ء میں شروع کئے گئے تھے اور 2022ء میں دوبارہ لانچ کیے گئے تھے، پیر کو اختتام پذیر ہوئے۔
آنے والے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ہندوستان اور یورپ نے ایک واضح انتخاب کیا ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری، بات چیت اور کھلے پن کا انتخاب۔ اپنی تکمیلی طاقتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور باہمی طاقت کی تعمیر۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بکھری ہوئی دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ایک اور راستہ ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے تجارتی معاہدہ نے مزید کہا کے درمیان کہا کہ یہ کے لئے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔