دو دہائیوں بعد بڑی پیش رفت، بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔
نریندر مودی کے مطابق تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کے تحت کھولے گا۔ یورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے۔ مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.
بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھارتی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی یونین بھارت اور اور یورپی
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔